7/02/2012

ہون میں کی کراں؟

ایک تو عرصہ ہوا ہم سے رٹا نہیں لگتا دوسرا کبھی بھی ہم سے یہ نہیں ہو پایا کہ امتحان میں سوالات کے جوابات کو لمبا کرنے کے لئے بلاوجہ الفاظ کی جُگالی کریں۔ اس لئے اکثر سوالات کے جوابات کا مواد مقدار میں مقرر نمبروں کے مقابلے میں کم ہی ہوتا ہے ۔مگر خوش قسمتی یہ کہ ہمیں کبھی کسی تحریری امتحان میں ناکامی کا سامنا نہیں کرنا پڑا یعنی جس طرح کبھی انٹرویو میں پاس نہیں ہوئے بلکل اس ہی طرح تحریری امتحان میں خواہ کس کی نوعیت کا ہو ناکامی کا منہ نہیں دیکھنا پڑا۔
ہمارا خیال تھا کہ زندگی میں ملنے والی چند نئی کامیابی و ناکامیوں میں اس بار بلا آخر امتحانی پرچوں میں ناکامی کا سنگ میل عبور کرنے کا موقعہ ملے گا مگر ہائے رے قسمت!!! ہر پرچے پر کالج پہنچنے پر معلوم ہوتا کہ پرچہ ملتوی ہو گیا !! وفاقی اردو میں طلباء تنظیموں کے جھگڑے کی بناء پر تمام پرچے ایک ایک کر کے ملتوی ہوتے رہے جن کا ہمیں بروقت علم نہ ہوا اخبار میں خبر آتی مگر اخبار میں وہ صحفہ پڑھنے کی ہمیں عادت نہ ہے لہذا ابو جان سے ڈانٹ پڑی ہے کہ تجھے باقی ساری خبروں کی جزیات تک کا علم ہوتا ہے مگر اپنے پرچوں کی خبر نہیں۔
سچی بات تو یہ ہے بغیر تیاری امتحان کو جانے کو دل نہیں کرتا مگر اُس سے ذیادہ دکھ اُس وقت ہوتا ہے جب منزل امتحان پر پہنچ کر علم ہو کہ امتحان ملتوی ہو گیا ہے تو دل پر ایک چوٹ سی لگتی ہے !!! کیوں ؟ یہ سمجھ نہیں آتی!