3/28/2012

نوشتہ دیوار

جب ہم پی ایف کالج میں پڑھتے تھے تو زندگی بہت عمدہ تھی! فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا!! کر تو ہم اب بھی عیش ہی رہے ہیں مگر تب کی بات اور تھی۔

ایک دن کالج آئے تو ایک خاتون کا نام اور فون نمبر کالج کی تمام دیواروں پر لکھا ہوا تھا! شدید حیرت ہوئی! اگلے پورا ماہ اہم موضوع بحث یہ اسٹوڈنٹ ہی رہی تمام کالج میں! وہ اسٹوڈنٹ تو اگلے دن سے کالج نہیں آئی!! جن کے ناموں کو تفتیش کے دائرے میں لایا گیا اُن میں ہمارا نام بھی تھا جب ہی مجرم پکڑنے کی ذمہ داری Vice Principle نے ہمیں دے دی!! ایسے کیسوں کے مجرم پکڑ میں آتے ہیں کیا؟

تب ہم نے جانا ایک کام کا چور ہر کام کا چور مانا جاتا ہے! ہمارا جرم بس اتنا تھا کہ ہم نے کالج کی ایک سابقہ روایت کو دوبارہ زندہ کیا تھا اور وہ تھی کلاس یا کالج سے bunk مارنا!! اس ہی بناء پر کوئی بھی دو نمبر کام ہوتا ہمارا نام مجرمان کی فہرست میں آتا تھا!! وہ تو شکر ہے نہ تو ہمارا کبھی bunk پکڑا گیا نہ کسی اور جرم کی پاداش میں ہم کالج سے نکالے گئے۔

آج فلکر پر ایک تصویر دیکھ پر کالج کا یہ قصہ یاد آ گیا!