2/26/2012

لسّے دا کیہہ زور؟

لسّے دا کیہہ زور محمد!! نس جانا یا رونا!! میاں محمد بخش نے لاچار کے رونے ہا بھاگ جانے کو اُس کی کمزوری بتا کر طاقت ور کی برتری کا راز افشاء کر دیا ہے اور اس کی مثال اب تک ہمارے معاشرے میں موجود ہے۔

گزشتہ دنوں ضمنی انتخابات ہوئے! جن کئی ایک مقامات پر اسلحے کی نمائش و تشدد و دھاندلی کی بازگشت سنائی دی!
اُن واقعات میں سب سے دلچسپ خبر ایک خاتون امیدوار وحیدہ شاہ کا اپنے حلقے کے ایک پولنگ اسٹیشن کی دو پریذائیڈنگ آفیسرز کو طمانچے دے مارے ذیل میں ایک خبر کی ویڈیو موجود ہے۔



محترمہ اپنے اس حلقے سے الیکشن جیت کر اپنی پارٹی کے کو چیئرمین کے دعوے کے تحت “جمہوریت بہترین انتقام” کے نظریے کو تقویت دینے کو اسمبلی کا حصہ بن گئی ہیں۔


محترمہ کی قابلیت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن پریذائیڈنگ آفیسرز نے پولنگ بوتھ میں اپنے چہرے نہیں چھپائے وہ پریس کانفرنس میں باپردہ حالت میں موجود تھی! جبکہ اندر کی خبر والے بتاتے ہیں اُس ہی لمحے متعلقہ پریذائیڈنگ آفیسرز اپنے گھروں میں موجود تھی۔

منتخب حکمرانوں کے یہ رویے ہوں تو کیا تبدیلی ممکن ہے؟