2/19/2012

بے تکی باتوں کو چھ سال ہوئے!

19 فروری 2005 کو جب ہم نے “بے طقی باتیں، بے طقے کام” کے نام سے یہ بلاگ بنایا تھا تو ہم نہیں جانتے تھی کہ دراصل یہ بلاگ شے کیا ہے؟ سچی بات ہے یہ ناسمجھی اب بھی قائم ہے۔ ہمارے بلاگ پر پہلا تبصرہ دانیال نے کیا تھا۔

تب سے اب تک چھ سال ہو گئے بلاگنگ کے۔ اب چھ سالوں میں پانچ سو سے اوپر تحریریں لکھی جن پر قریب دو ہزار تبصرے ہوئے جن میں سے ساٹھ کے قریب تبصرے ہم نے سنسر کئے ۔

اکثر دوست اب بھی پوچھتے ہیں کہ بلاگ کا نام بے طقی کیوں ہے وجہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں آپ دوبارہ پڑھ لیں اور جس قدر تھوڑی بہت ہمیں انگریزی آتی ہے ہم نے یہ ہی جان پائے ہیں کہ Pensive کا مطلب سنجیدہ و گہری و اُداس سوچ و خیال ہوتا ہے اس مناسبت سے Pensive Man سے مراد ایک فکر میں ڈوبا ہوا فرد ہونا چاہئے۔

اس عرصہ میں ایک بار ہم بلاگ اسپاٹ سے ورڈ پریس کی طرف گئے اور اپنا کافی سارا ڈیٹا ضائع کر کے پھر بلاگ اسپاٹ کی طرف لوٹ آئے اور اب اس ہی کے ہو کر رہ گئے ہیں۔

اس عرصہ میں کئی ساتھی بلاگر نہایت عمدہ انداز تحریر و خیالات کے ہمراہ اردو بلاگنگ کا حصہ بنے اور غائب ہوئے۔ اس ہی سفر کی یادوں پر مشتمل “اردو بلاگرز” سے متعلق سوال جواب کا سلسلہ فیس بک کے اردو بلاگرز گروپ میں شروع کیا گیا ہے کیا بھی اس کھیل میں شریک ہو سکتے ہیں۔

اور کچھ درکار ہے؟

*بی بی سی اردو نے خبر لگائی “بلوچستان کی آزادی کے حق میں قرارداد” ہم نے یوں سمجھا “پاکستان کو توڑنے کے حق میں قرار داد”!! اپنی اپنی سمجھ و سوچ کی بات ہے۔۔

بلوچستان پر لکھنے والے اکثر یہ خیال کرتے ہیں کہ اہل بلوچستان سے باقی پاکستان کو کوئی ہمدردی نہیں مگر حقیقت ایسی نہیں! جن دشواریوں میں بلوچستان میں بسنے والے ہیں اُن کی مشکلات کا شکار باقی پاکستان ہے۔ کہتے ہیں موجودہ نئے بد ترین حالات کا آغاز بلوچستان میں 2004 سے شروع ہوا یہ تب ہی کی بات ہے جب پڑوس میں امریکی اُتر آئے تھے اور تازہ تازہ امریکیوں کا بھارت سے طالبان کے خلاف خفیہ اتحاد ہوا تھا اور را کو افغان سر زمین پر جگہ ملی مگر سچ یہ ہے کہ اُن پر الزام لگانے سے پہلے ہمیں اپنی کمزوریوں پر نظر رکھنی چاہئے۔

2007 سے پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر بلوچستان میں بیرونی مداخلت کا کئی مرتبہ ذکر کیا اور اس سلسلے میں بھارت کو قصوروار بتلایا مگر اتنی ہمت نہ کر سکے کہ نیٹو و امریکہ کو بھی شریک کار بتلائے۔ ہم بین الاقوامی معاملات سے نا واقف ہیں مگر امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن جماعت کے نمائندے ڈینا روبا کی پیش کردہ قرارداد کو ہر گز صرف ایک فرد کا ذاتی فعل سمجھنے سے قاصر !

ذاتی فعل بتاتے ہوئے ڈینا روبا کی پاکستان مخالفت بیان کرتے ہوں اس حرکت سے قبل بھی دو معاملات کا ذکر کیا جاتا ہے اول 2009 میں کانگریس میں کیری لوگر بل کے خلاف ووٹ ڈالنا دوئم گزشتہ سال پاکستان میں امداد روکنے کو “Defund United States Assistance to Pakistan Act of 2011” نامی بل ایوان نمائندگان میں پیش کرنا۔

ڈینا روبا سے آگے کی بات اس سلسلے میں یوں کہی جا سکتی ہے کہ اس سال پہلے مرتبہ 13 جنوری کو امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان Victoria Nuland نے بلوچستان کے معاملے میں اظہار ان الفاظ میں کیا!۔


The United States is deeply concerned about the ongoing violence in Balochistan, especially targeted killings, disappearances, and other human rights abuses. This is a complex issue. We strongly believe that the best way forward is for all the parties to resolve their differences through peaceful dialogue. We take the allegations of human rights abuses very seriously, and we have discussed these issues with Pakistani officials and also urged them to really lead and conduct a dialogue that takes this issue forward. Thank you

جسے اُس وقت ہی نیٹ پر کافی ڈسکس کیا گیا تھا۔

پھراسی سال 16 جنوری کو Louie Gohmert اور Dana Rohrabacher ایک تحریر “اوبامہ کی افغان پالیسی طالبان کو مضبوط کر رہی ہے” میں افغانستان میں انتہاپسند قوتوں سے نمٹنے کو پاکستان سے بلوچستان کی علیدگی کی تجویز ان الفاظ میں پیش کی۔


Perhaps we should even consider support for a Balochistan carved out of Pakistan to diminish radical power there also. Surely, leaving Afghanistan to the same terrorist thugs who enabled the September 11th attacks is the very definition of insanity.The way forward should not include the current Obama plan of putting our future in Taliban hands that are covered with American blood.


اس کے علاوہ 8 فروری کو کانگریسی بحث رکھی جس میں دیگر چار افراد کے ہمراہ علی حسن (ہیومن رائیٹ کمیشن، ڈائریکٹر پاکستان)بھی شریک تھے۔ جس میں آزاد بلوچستان کی تجویز بھی سامنے آئی اور اب یہ قرارداد۔ کیا اور کچھ بھی درکار ہے سالمیت پر حملے کو؟