12/11/2011

توبہ توبہ!! ابے یہ کرتا کیا ہیں؟پتا تو چلے

ہمارے ایک بہت پیارے دوست نے ایک دفعہ اپنا ایک سچا قصہ ہم سے شیئر کیا! اول تو قصہ بہت عمدہ تھا دوئم ہمارے اُس دوست کو جیسے قصہ گوئی کا فن آتا ہے سن کر ہنس ہنس کر ہم بے حال ہو گئے ہمیں وہ قدرت تو حاصل نہیں مگر قصہ آپ سے شیئر کرتے ہیں۔
بقول ہمارے دوست کے وکالت کے آغاز میں انہوں نے اپنے علاقے میں ایک دفتر کھولا اور دفتر میں دیگر دفتری اشیاء کے ساتھ ایک ٹی وی میں لگوا لیا! جس پر کیبل کا کنکشن حاصل کیا۔ آغاز وکالت فراغت کے دن ہوتے ہیں لہذا ایسے ہی ایک فراغت کےوقت میں ہمارے دوست کیبل پر انگریزی فلم دیکھ رہے تھے تو اُس کا ایک دوست جو مولوی تھا آفس میں آ گیا ہمارے دوست نے چینل نہ بدلہ دونوں گفتگو میں مصروف ہو گئے مگر نظر بیشتر اسکرین پر مرکوز رہتی کہ اتنے میں وہ “سین” بھی فلم کے کسی ایکٹ میں آ گیا جس میں فلم کے دو کردار اپنی محبت کا “عملی” مظاہرہ کرتے نظر آئے “مولبی” کی موجودگی کی بناء پر ہمارے دوست نے چینل بدلنے کو ریموڑٹ اُٹھا تو “مولبی” گویا ہو “رہنے دوں ہم بھی دیکھیں یہ خبیث کرتے کیا ہیں” پھر وہ محبت کے “عملی”اظہار میں آنی والی شدت کے ساتھ ساتھ ذیادہ جذباتی انداز میں بولتے “اوئے اوئے خبیث” “توبہ توبہ”” استغفار” “خبیث اوئے”۔
یہ ہی حال ہمارے میڈیا کا ہے! وہ بھی کسی عمل غلط کو ذکر کرتے، عکس بندی کرتے، اُس پر بحث کرتے، اُس پر تنقید کرتے اور اُس کا تجزیہ کرتے ہوئے “اوئے اوئے خبیث” “توبہ توبہ”” استغفار” “خبیث اوئے” تو کرتے ہیں مگر ایسے کہ نہ صرف اُس عمل “بد” کی تشہیر ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں سے ایک طبقہ ایسا پیدا ہو جاتا ہے جو اُس عمل کو واہ واہ کرتے داد دیتا نظر آتا ہے۔
آج کل میڈیا میں صدر صاحب کے بیرونی ملک جانے کے بعد جو خبر لوگوں کے دماغوں پر سوار ہے وہ ایک پاکستانی اداکارہ( طوائف و کنجری کہنا بھی درست ہو گا کیوں کہ اعمال کو دیکھتے ہوئے یہ اُس کا پروفیشن ہے اُس کیلئے گالی نہیں) کے بھارت میں کپڑے اُتار کر تصاویر بنوانا ہے۔ کہانی ISI کے ٹیٹو سے شروع ہوئی اور اب انکار سے ممکنہ اقرار کی طرف گامزن ہے۔ تین (پہلی، دوسری اور تیسری) جاری کردی تصاویر کو وجہ تنازعہ بنایا جا رہا ہے، بالغان کے رسالے کے لئے اب برقعہ پہن کر تو تصاویر نہیں اُتاری جانے سے رہے، اس بندی کا ماضی ایسا ہے کہ ملکی سطح پر بھی ماڈلنگ کے آغاز میں ایک ایسا فوٹو شوٹ کروا چکی ہے۔ لہذا ایسی طوائف مزاج خواتین کو میڈیا میں جگہ نہ دی جائے تو بہتر ہے مگر اچھے بھلے بیک گراونڈ والے ادارے بھی بھیڑچال میں وجہ تشہیر بن جاتے ہیں۔ ایسی خواتین کو اپنے گھر والے تعلق سے انکاری ہو جاتے ہیں۔
باقی کیا کہنے ہمارے ملک میں ایک طبقہ ایسا ہے جو برقعہ پوش عورت کو اپنے حق سے نا واقف و جاہل قرار دیا ہے مگر برہنہ ہونی والی خاتون کو بہادر و با ہمت قرار دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کا کیا علاج ہے؟