11/07/2011

بکرا عید پر بکرا کون؟

آج عید کا دن تھا! گزر گیا! مگر دو دن اور ہیں قربانی کے! لہذا دو دن کی عید باقی ہے، یوں ابھی دو دن اور ہیں عید مبارک کہنے کے! تو پھر آپ کو ہماری طرف سےعید مبارک چاہے آپ عید منا رہے ہیں یا آپ کو عید منانی پڑ رہی ہے۔
اب کہاں وہ عید ہوتی ہے جو بچپن میں ہوتی تھی! آہ کیا دن تھے۔ ذمہ داری کے احساس سے پاک، آزادی کے احساس سے بھرے۔ خوشی و سرشاری سے بھرپور! ہماری عید کا آغاز چاند نظر آنے سے تو نہیں مگر ہاں قربانی کا جانور آنے سے ہوتا ۔ عموما دنبہ یا بکرا قربانی کے لئے لایا جاتا اور اُس کے قربان ہونے سے پہلے تک ہم اُس پر قربان جاتے۔ لڑکیاں ہاتھوں میں مہندی لگاتی ہیں اور ہم اپنے بکرے کو مہندی لگا رہے ہوتے، مہندی کیا لگتی تھی اُس کے جسم پر “عید مبارک” لکھتے تھے پہلی بار تو مہندی پتلی ہونے کی وجہ سے “عید” ہی بہہ گئی تھی رہی سہی کسر بکرے صاحب نے خود کو قریبی دیوار سے خود کو رگڑ کر پوری کر دی تازہ لگی مہندی سمیت اور ہماری قسم کھانے کے با وجود بھی” رقیب” یہ ماننے تو تیار نہ تھے کہ ہم نے عید مبارک لکھا ہے۔ آنے والے سالوں ہم” عید مبارک “ لکھنے کے ماہر ہو گئے گئے۔
بکرے کی مخصوص پائل اور اُس کی دیگر لوازمات بھی ہم نے خرید کر رکھے ہوئے تھے، یہ الگ بات ہے کہ اپنی روایتی کنجوسی کی بناء پر بکرے کی (ذبح ہونے کے بعد ) نیم خون آلود اُن اشیاء کو دھو کر آئندہ سال کے لئے محفوظ کر لیتے تھے۔ اپنے بکرے کو تیار کر کے گلی/محلے میں لے کر پھرتے اور گلی کے دیگر بکروں سے اپنے والے کو افضل قرار دیتے نہ ماننے والے سے لڑ بھی پڑتے۔
عید والے دن بکرے کے ذبح ہونے پر غمگیں بھی ہو جاتے تھے جبکہ یہ پہلے سے علم و احساس ہوتا کہ اس ہی مقصد کے لئے لایا گیا ہے۔
ایک اور شوق عید والے دن علاقے میں گھوم کر جانوروں کی قربانی دیکھنے کا ہوتا تھا۔ دوستوں کا ایک ٹولہ بنا رکھا تھا اور عید سے ایک یا دو دن پہلے سائیکلوں پر گھوم کر صحت مند و خوبصورت جانوروں کی لسٹ تیار کی جاتی اور مالکوں سے معلوم کیا جاتا کہ کب قربان کیا جائے گا اور عید والے دن اُس جانور کے قربان کئے جانے کا منظر دیکھنے جا پہنچتے۔
وقت کے ساتھ ساتھ لا شعوری طور پر اس جذبے میں کمی آتی گئی، اور پھر والد صاحب نےچھوٹے کی قربانی کے بجائے بڑے میں حصہ ڈالنا شروع کر دیا۔ ہم قربانی میں شریک ہوتے ٹوکے کا استعمال تو نہیں کیا مگرچھری کی مدد سے گوشت بنانے میں اپنا حصہ ضرور ڈالتے۔ دو چار مرتبہ انگلیاں بھی زخمی کی مگر اب اس کام میں بھی شریک نہیں ہوتے۔
ہم بڑے ہو گئے ہیں اور بدل سے گئے ہیں اس سال تو حد ہو گئی قربانی کے جانور کی ذرا سی بھی خدمت نہیں کی میں نے۔
احساس ہوتا ہے مگر ۔۔۔۔۔۔ یا پھر در حقیقت زمانے کے انداز بدل گئے ہیں،ہمیں آج کل گلی/محلے کے بچوں میں یہ جذبہ کم ہی نظر آتا ہے۔ یا ہم ہی فریب میں ہے۔
ہم زمانے کو ہم اردگرد کے احباب سے ناپتے ہیں، اور اپنے علاقے میں ہمیں اس سال قربانی کا رجحان کم نظر آیا، احباب سے بات چیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی قوت خرید کم ہوتی جا رہی ہے، قربانی کی خواہش ہے مگر وسائل نہیں۔
خدا جانے بکرا عید پر بکرا کون ہوتا ہے اب؟