10/16/2011

جدت میں یاد ماضی

ہم بچپن میں ایک مرتبہ پنجاب گئے تو گاوں میں چاول کی پنیر لگ رہی تھی، اُس وقت ایک بزرگ کو اُونچا سنائی دیتا تھا تو انہوں نے آلہ سماعت لگا رکھا تھا، جسے وہ ٹوٹی کہہ کر پکارتے تھے، پنیر لگاتے ہوئے وہ ٹوٹی کھڑے پانی میں گر گئی تو انہوں نے وہاں موجود تمام افراد کو ٹوٹی کی تلاش میں لگا دیا، کیونکہ اُس آلہ سماعت کی غیر موجودگی میں وہ سننے سے قاصر تھے۔ اُس ٹوٹی کے ملنے کے بعد ہمیں پہلی مرتبہ اندازہ ہوا کہ یہ تو کریم رنگ کی ہے ورنہ ہم تو اُسے پیلا سمجھ رہے تھے۔ اُن بزرگ سے کسی نے بھی کوئی راز کی بات کہنی ہوتی تو وہ اُن کے کان کے پاس منہ کر کے بات نہ کرتا بلکہ اُس ٹوٹی کے دوسرے سرے پر لگے آلے جوعموما اُن کی دائیں جانب کی جیب میں ہوتا کو ہاتھ میں کر اپنے منہ کے باس لے جا کر کرتا یہ عمل ہمارے لئے نہایت دلچسپ تھا۔ بعد میں انہوں نے ٹوٹی کی جدید شکل کا استعمال شروع کر دیا.جو کان پر ایک مختصر شکل میں موجود ہوتی۔
یوں ہی ایک مرتبہ ہم اپنے اسکول سے آ رہے تھے تو ہمارے آگے آگے ایک تنہا آدمی خود میں مگن جا رہا تھا۔ اور وہ خود ہی باتین کرتا جاتا، گفتگو سے اندازہ ہوتا کہ جیسے وہ کسی سے جھگڑا کر رہا ہواور اُس شخص کی حرکات سے یہ لگتا کہ وہ جس شخص لڑ رہا ہے وہ اُس کے سامنے ہے۔ ہمارے ساتھ جاتے ہم سے سینئر کلاس کی لڑکی نے ہماری حیرت کو دیکھے ہوئےاشارے سے اُس شخص کے پاگل ہونے کا اشارہ کیا۔ اور ہم اپنے طور پر مطمین ہو گئے۔
اپنی نوعیت میں انوکھے ہونے کی بناء پر یہ دونوں واقعات ہمیں یاد ہیں۔ نامعلوم کیا وجہ ہے جب بھی آج میں کسی یار دوست یا بندے کو ہینڈ فری کی مدد سے گانے سنتا یا فون پر بات کرتا دیکھتا ہو یا کسی منچلے کو bluetooth لگا دیکھتا ہو تو مجھے یہ دونوں باتیں یاد جاتی ہیں۔