8/03/2010

منجانب اہلیان کراچی

لو جی ہمیں آج تک اہلیان کراچی و کراچی کے شہریوں کی سمجھ نہیں آئی! بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ یہ سمجھ نہیں آئی کہ یہ دراصل اہلیان کراچی و کراچی کے شہری ہیں کون؟؟
کیا آپ کو سمجھ ہے؟ یا آپ بھی میری طرح ہی ہیں! نا سمجھ؟ اب دیکھے ناں ایک دن آپ صبح صبح دفتر کے لئے یا کام سے نکلتے ہیں تو شہر میں بینر لگے ہوتے ہیں،
شہر میں طالبانائزیشن نا منظور منجانب اہلیان کراچی!
کبھی
لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا نامنظور اہلیان کراچی!
کہیں!
کراچی کے شہری بھتہ مافیاں اور دہشت گردوں کی بدمعاشی برداشت نہیں کرے گے!
یہ بینر کالے یا سفید رنگ کے کپڑے پر ہوتے ہیں! حیران کن بات یہ کہ یہ "نامعلوم" اہلیان کراچی چار سے آٹھ گھنٹے میں تمام کراچی میں بینر نصب کر دیتے ہیں اور ان کا پتہ بھی نہیں چلتا! اور کہیں کراچی بچاؤ تحریک کے پوسٹر لگے ہوتے ہیں!! جس میں کراچی کے شہریوں کو مخاطب کیا ہوتا ہے۔
جیسے ہی کراچی کے حالات کسی بھی ABC وجہ سے خراب ہوں! نام نہاد لیڈر، رہنما، سیاستدان اور بھائی کراچی کے شہریوں کو پُرامن رہنے کی تلقین کر رہے ہوتے ہیں جبکہ کہ حقیقت میں کراچی کے شہری خود امن کی دعا مانگ رہے ہوتے ہیں! جان بچا کر بھاگ رہے ہوتے ہیں! اپنی گاڑیوں کو جلنے سے بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہوتے ہیں!نہ کہ امن کو تباہ کرنے میں اپنی توانائیاں خرچ کر رہے ہوتے ہیں!
خدا کرے کل کو واقعی اصلی والے اہلیان کراچی پورے کراچی میں بینرز بنا کر لگا دیں! جس پر درج ہوں
تمام سیاسی ، مذہبی و لسانی جماعتوں و گروہوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اپنی ذاتی سوچ و خیال اور ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات براہ راست ایک دوسرے تک پہنچاؤ ہمارا نام استعمال نہ کیا جائے منجانب اہلیان کراچی!



دوپٹہ

عالمی اخبار کے بلاگ پر اج "نادیہ بخاری" کا یہ بلاگ پڑھا اچھا لگا اس لئے یہاں شیئر کر رہا ہوں۔
اٹھارہ سالہ شکیلہ میرے ہاسٹل میں تقریبا دس سال سے ملازمہ ہے میرے ہا سٹل مالکان ابھی کچھ دن پہلے ہی امریکہ سے واپس ائے اور کافی سامان بھی ساتھ لائے کل میں کچن میں کھڑی تھی تو شکیلہ مجھے کہنے لگی باجی امریکی پاگل ہیں کیا ؟میں نے حیرت سے جواب دیا نہیں کیوں کیا ہوا؟ کہنے لگی دیکھیں نہ باجی اپ کے پیچھے جو چپل پڑی ہے وہ ہاسٹل والی باجی امریکہ سے لائی ہے اور اس پر امریکہ کا جھنڈا بنا ہوا ہے بھلا بتاو کوئی جھنڈا بھی اپنے پاوں میں پہنتا ہے مجھے شکیلہ کی پریشانی میں لطف انے لگا میں نے شکیلہ کو چھیڑنے کے لئے کہا کہ شکیلہ تیرا کیا بھروسہ ابھی ہوسٹل والی باجی نے کوئی پرانا سا پاکستانی جھنڈا نکالنا ہے اور تو نے اس سے جھاڑ پونچھ شروع کر دینی ہے تو فورا شکیلہ بولی ہاے بخاری باجی میں مر نہ جاوں جو میں اپنے ملک کے جھندے کو اس مقصد کے لئے استعمال کروں میرے ملک کا جھنڈا تو میرے سر کا دوپٹہ ہے بھلا کوئی دوپٹہ کی بھی بے قدری کرتا ہے شکیلہ نے اپنی زندگی میں ابھی تک سکول کا منہ نہیں دیکھا لیکن اس کی سوچ یقینا ان کئی نوجوانوں سے افضل ہے جو اپنی تعلیم سے تخریب کاری کا سامان تیار کر کے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں جہاں شکیلہ جیسے حب الوطن نوجوان ہوں بھلا بتائیں کہ کیا کبھی اس ارض پاک کی طرف کوئی دشنمن میلی انکھ سے دیکھ سکتا ہے؟