6/18/2010

لطیفہ مگر ۔۔۔۔

آپ کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتے ہوں،اُس پیشہ یا شعبہ کے کچھ معاملات، پیش آنے والے واقعات یا حالات کی ترجمانی کے لئے چند قصہ یا لطیفہ ضرور ہوتے ہیں، اس کا ایک تجربہ ہمیں این سی سی میں ہوا کہ فوجیوں کے جو لطیفہ ہم نے سُنے وہ یہاں بیان نہ کرنا ہی بہتر ہے آپ نے سنے ہیں تو جانتے ہوں گے وجہ، اب عوامی مزاج کو سمجھنے کے لئے آپ موجودہ دور کے ایس ایم ایس کو پڑھ لیں، یوں آپ عام آدمی کی سوچ سے با آسانی واقفیت حاصل کر لیں گے۔
دلچسپ بات یہ کہ اگر آپ اپنے موبائل پر آنے والے ہر روز کے ایس ایم ایس بھیجنے والے کی شخصیت کا جائزہ اُس کی طرف سے آنے والے روزانہ کے ایس ایم ایس سے جان سکتے ہیں۔ یہ ہی حالت آج کل ٹویٹر و شوشل نیٹ ورک کی دیگر سائیٹ پر اپنی دوستوں کے اسٹیٹس اپ ڈیٹ سے لگا سکتے ہیں ہے کہ نہیں؟ شاید اس لئے ہی یار لوگوں کو پرائیویسی کا بہت خیال ہے، آپس کی بات ہے جس قسم کی باتیں ہمیں نعمان نے اوبنٹو پارٹی میں فیس بک و گوگل سے متعلق بتائی تھی اُس کے بعد تو ۔۔۔۔۔ گولی مارو کیا فکر کرنی۔
تو بات ہو رہی تھی شعبہ سے متعلق لطیفہ کی جو حسب حال ہوتے ہیں۔ وکالت کے کچھ لطیفہ جو شیئر کرنے کے قابل ہوتے ہیں وہ ہم نے پہلے بھی بلاگ پر لکھے ہیں۔ ایک ذیل میں ہے۔
ایک بزرگ وکیل کا بیٹا باہر سے پڑھ کر واپس آ یا، بزرگ نے بیٹے کو کام سمجھایا اور پھر حج کے لئے ملک سے باہر چلے گئے حج سے واپسی پر دفتر کا چکر لگایا تو جانا آفس کے آدھی سے ذیادہ کیس کی فائیلز روزانہ کی ڈائری شیٹ میں نہیں تھی۔ بیٹے سے استفسار کیا تو اُس نے سینہ ٹھوک کر کہا ابا سارے جیت گیا۔ بزرگ وکیل نے سنا تو غصہ سے بولا "لعنتی اُن کیسوں سے میں نے تیری تعلیم کا خرچہ پورا کیا ہے ابھی شادی کرنی تھی تو نے کیس ہی ختم کر دیئے۔

آج کل ہمارا حال بھی اُس نوجوان وکیل کا سا ہے کیس دنوں میں ختم ہو جاتا ہے، اور کامیابی کا شیئر بھی نوے فیصد ہے۔ مگر اس کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ سائل سے جتنے میں بات ہوتی ہے وہ مکمل فیس دیئے بغیر اپنا کام کروا کر رابطہ نہیں کرتا، دوسرا سینئر سے یہ سُن سُن کر یہ لارڈ کا پیشہ ہے دل نہیں مانتا بقایا پیسوں کے لئے اُسے فون کیا جائے، کچھ گھر والوں کی تربیت۔۔۔۔۔
خیر جان دوں ایسا کریں آب اپنے شعبہ سے متعلق کوئی لطیفہ شیئر کریں خواہ آپ کے حسب حال نہ ہو۔۔۔۔