6/15/2010

خود سے قریب آوازیں

بنیادی طور پر وہ ہی چیز ہمیں اچھی لگتی ہے جو اپنے سے قریب معلوم ہو۔ شاید اس لئے ہی گانے میں بھی ہمیں یا مجھے وہ ہی آواز اچھی لگتی ہے جس میں سےاپنی مٹی کی خوشبو آئے۔ پاپ گانے بھی تب ہی زیادہ بھلے معلوم ہوتے ہیں جب اُن میں علاقائی رنگ موجود ہوں۔ پرانے گلوکاروں کی ایک لمبی فہرست ہے جن کی آواز میں مٹی کی خوشبو موجود ہے مگر چند نئی آوازیں اب بھی ایسی ہے جو روح کے قریب معلوم ہوتی ہیں، اور ایسی آوازیں اُن گھرانوں سے تعلق رکھے جن کا تعلق گانے بجانے سے نہ ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ واقعی مٹی کی تاسیر بھی اپنا وجود رکھتی ہے جیسے اس سے قبل اکرم راہی کا نام پنجاب سے آیا، اج بھی پیجاب میں سب سے زیادہ میڈیا پبلسٹی کے بغیر اُس کی کیسٹ فروخت ہوتی ہیں وہ کیا کہتے ہیں انگریزی میں ہوٹ کیک کی طرح۔
ایک ایسا ہی نام معصومہ انور کا ہے، اب تک ان کی ایک ہی البم مارکیٹ میں آئی ہے، شوقیہ گلوگار ہیں، پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، اسلامآباد کی رہائشی، کالج لیول پر آل پاکستان گلوکاری کا مقابلہ جیتنے کے بعد سرکاری ٹی وی پر نظر آئیں۔ ہمارے گھر والوں کو ان کا گانا "کملی" لگتا ہے، ذیادہ تر صوفی کلام گاتی ہیں۔ اردو گانا سننے والے "کلام اقبال" سن کر جوہر کا اندازہ لگا لیں! اور ہمیں تو ان کی آواز میں "وے اسا تینوں کی آکھنا"پسند ہے۔