6/30/2009

پاکستان بننے کے نقصانات

جب ہم ایل ایل بی سال دوئم کے طالب علم تھے تب کی بات ہے ہمارے کالج کے پرنسپل جناب خورشید ہاشمی جو ہمیں بین الاقوامی قانون پڑھاتے تھے نے ایک دن ایک قصہ یا واقعہ کہہ لیں ہم طالب علموں سے شیئر کیا، محترم نے بتایا کہ ایک بار وہ ایک یورپی یونیورسٹی {معذرت مجھے نام بھول گیا} میں لیکچر دینے گئے تو انہوں نے دوران لیکچر سوال کیا کہ یہاں موجود کتنے طالب علموں کا تعلق پاکستان سے ہے؟ تو قریب بارہ سے تیرہ نوجوانوں نے اپنے ہاتھ کھڑے کئے۔ اس کے بعد اُن کا اگلا سوال یہ تھا کہ کتنے طالب علم بھارت سے تعلق رکھتے ہیں تو بھی قریب اتنے ہی ہاٹھ جواب میں اٹھے ، جب اُن میں مسلمان طلباء کی تعداد دریافت کی تو وہ صرف ایک تھی۔

یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا۔ ہماری کامیابیوں کی تمام وجوہات کا ہر سرا اس کے وجود کے مرہون منت ہے خواں وہ کامیابیاں اس ملک سے باہر ہی کیوں نہ ملی ہوں۔مگر ملک کی تیسری بڑی پارٹی کے سربراہ فرماتے ہیں کہ برصغیر کی تقسیم نے مسلمانوں کو اجتماعی طور پر صرف نقصان ہی نقصان ہوا ہے۔ جی نہیں میں آج سے پانچ سال پہلے والے بھارت میں جناب کی تقریر کی بات نہیں کررہا کل رات کے تازہ "____" کا کہہ رہا ہوں۔ ویڈیو ذیل میں ہے یوں تو تمام ویڈیو دیکھ لیں مگر ساتویں منٹ سے جو بات شروع ہوتی ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں۔

Altaf interview

اس کے جواب میں ایک بہت لمبی حقائق پر مبنی پوسٹ لکھ پر جناب کے دعوی کو غلط ثابت کرنا نہایت آسان ہے۔ مگر جو نہیں سمجھنا چاہتے اُن کے لئے صرف خاموشی۔ ویسے جناب کی اپنی سیاست بھی اس ہی تقسیم کا نتیجہ ہے۔