6/29/2009

قائد کی تصویر اور جمہوریت کے خلاف سازش

اگر آپ کراچی کے رہائشی ہیں تو گزشتہ ماہ کے آغاز میں یقین آپ نے شہر کی گلیوں و سڑکوں پر ایسے بینر دیکھے ہوں گے جن پر درج تھا "خود بھی جیو اور جینے دو، خدارا ملک میں بی بی کی قربانی کی بناء پر آنے والی جمہوریت کے خلاف سازشیں بند کر دو" منجانب پیپلز پارٹی فلاں فلاں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں اس کا مطلب کیا تھا؟ اگر نہیں تو آپ بھی میرے بھائی /بہن ہیں۔ اس بینر کو دیکھ کر یہ مھسوس ہوتا تھا جیسے منت سماجت ہو رہی ہو، ویسے تو ترلوں میں بڑی جان ہوتی ہے، سنا ہے دو طرح کے لوگ کرتے ہیں اول جو کمزور ہو دوئم جو جھوٹے ہوں، حکومت وقت کمزور ہو تی ہے کیا؟

یار لوگوں کا دعوی ہے کہ پاکستان اب قائد کا پاکستان نہیں رہا، البتہ وہ خود کنفیوز ہیں کہ آیا اب یہ پیپلزستان ہے یا جیالستان؟ یہ الجھن بھی ہے کہ یہ بھٹوستان ہے یا درحقیقت زردارستان؟ چند ایک احباب اپنے کافی وزنی دلائل سے یہ ثابت کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں کہ یہ اب امریکستان بن چکا ہے، کم از کم حکمرانوں کے لئے۔

موجودہ حکومت ایک جمہوری حکومت ہے، جس نے ایک "آمر" کی چھٹی کر وائی، کہ "آ" "مر"۔

اس جمہوری حکومت کے خلاف سازشیں جاری ہیں۔ اب یار لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ ایوان صدر سے محمد علی جناح جنہیں ایک قوم ہوا کرتی تحی پاکستانی وہ قائد اعظم بھی مانتی تھی کی تصویر ہٹا دی گئی ہے۔ سازشیوں نے ثبوت کے طور پر چند ایک مثالیں بھی دی خاص کر کے ذیل کو تصویر کو پیش کرتے ہیں

June 25 – A group photograph of President Asif Ali Zardari with T-20 World Cup winning Pakistani Cricket Team at Aiwan-e-Sadr.

اب کوئی ثبوت دے کہ یہ اصلی ہے، خواں یہ سچ ہی کیوں نہ ہو کہ 26 جون کو سرکاری طور پر جاری کی گئی تھی، یہ اس کے اصلی ہونے کی کوئی وجہ تو نہیں ناں؟ اس سازش میں دراصل انگریزی اخبار "دی نیوز" کا ہاتھ ہے وہاں سے جیو و جنگ نے اسے اُٹھایا۔ بقول جیو کے

قانون کیا ہے بس روایت ہے، بقول فرخ نسیم کے

ممکن ہے کہ آپ کو ایسی پریس ریلیز ملتی" یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے، اس میں "_____" کا ہاتھ ہے، ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ہم کسی کو ایسی سازش کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گے، اب ایسے سازشی عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گے۔ان عناصر کو بے نقاب کیا جائے گا، قوم جانتی ہے کہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں عالمی جیمپین بننا بھی دراصل بی بی کی سالگرہ کے دن کے مرہون منت ہے، قوم ان سازشوں کا شکار نہیں ہو گی"۔ مگر سادہ سی تردید ہوئی ہے وہ بھی صرف وزیراعظم ہاوس کی، ایوان صدر کی نہیں۔

ایوان صدر کی کیا بات ہے۔ ویسے بھی قائد کا پاکستان نہیں رہا تو قائد کی تصویر کیوں؟ بھٹو نے اپنی ایک ساتھی سے کہا تھا دیکھ پورے کراچی کی جو زمین اچھی لگے بے شک اُس کا سودا کر لینا مگر یہ جو "بابے" کو زمین کا ٹکڑا دیا ہے اس پر اپنی نظر بند نہیں ڈلنا ورنہ قوم تجھے نہیں چھوڑے گی اور بھٹو کا داماد جانتا ہے اب قوم کچھ نہیں کہتی لہذا قائد کی تصویر کو "ٹاٹا"۔