3/15/2009

میں باغی ہوں میں باغی ہوں

اس دور کے رسم رواجوں سے
ان تختوں سے ان تاجوں سے
جو ظلم کی کوکھ سے جنتے ہیں
انسانی خون سے پلتے ہیں
جو نفرت کی بنیادیں ہیں
اور خونی کھیت کی کھادیں ہیں
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

وہ جن کی ہونٹ کی جنبش سے
وہ جن کی آنکھ کی لرزش سے
قانون بدلتے رہتے ہیں
اور مجرم پلتے رہتے ہیں
ان چوروں کے سرداروں سے
انصاف کے پہرے داروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہئے مجھ پر ظلم کرو

جو عورت کو نچواتے ہیں
بازار کی جنس بنواتے ہیں
پھر اُس کی عصمت کے غم میں
تحریکیں بھی چلواتے ہیں
ان طالم اور بدکاروں سے
باراز کے ان معماروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہئے مجھ پر ظلم کرو

جو قوم کے غم میں روتے ہیں
اور قوم کے دولت ڈھوتے ہیں
وہ محلوں میں جو رہتے ہیں
اور بات غریب کی کہتے ہیں
ان دھوکے بار لٹیروں سے
سرداروں اور وڈیروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہئے مجھ پر ظلم کرو

مذہب کے جو بیوپاری ہیں
وہ سب سے بڑی بیماری ہیں
وہ جن کے سوا سب کافر ہیں
جو دین کا حرفِ آخر ہیں
ان جھوٹوں اور مکاروں سے
مذہب کے ٹھیکے داروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہئے مجھ پر ظلم کرو

جہاں سانسوں پر تعزیریں ہیں
جہاں بگڑی ہوئی تقدیریں ہیں
ذاتوں کے گورکھ دھندے ہیں
جہاں نفرت کے یہ پھندے ہیں
سوچوں کی ایسی پستی سے
اس ظلم کی گندی بستی سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہئے مجھ پر ظلم کرو

میرے ہاتھ میں حق کا جھنڈا ہے
میرے سے پہ ظلم کا پھندا ہے
میں مرنے سے کب ڈرتا ہوں
میں موت کی خاطر زندہ ہوں
میرے خون کا سورج چمکے گا
تو بچہ بچہ بولے گا
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہئے مجھ پر ظلم کرو

شاعر؛ نامعلوم

میں نے اُس سے یہ کہا