2/15/2009

بچہ بنا باپ

SNN1401A-682_733240a

اگر آپ پاکستان میں کسی سے اُس کی شادی و اولاد کا پوچھے تو آپ کو سوالات کو ایک مخصوص ترتیب سے رکھنا پڑے گا! یعنی اگر مرد و عورت غیر شادی شدہ ہوں تو اُن کی اولاد کے ہونے سے متعلق نہیں پوچھا جاتا! اور اگر وہ ماں یا باپ بن چکے ہوں تو یہ یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ “کیا آپ شادی شدہ ہیں؟“۔ مگر یار دوست دعوٰی کرتے ہیں کہ مغرب میں آپ یہ قسم کی ترتیب سے آزاد ہو کر کوئی بھی سوال پہلے کرسکتے ہیں! یہ بات اپنی اپنی اخلاقی معیار کے پیمانے میں دیکھی جاتی ہے!
برطانوی اخبار “دی سن“ نے ایک خبر یا اسٹوری بریک کی کہ 13 سالہ ایلفی باپ بن گیا! اخباری نیوز سائیٹ و بلاگز پر اس خبر پر مختلف سوالات اُٹھے ہیں! اس خبر کے بریک ہونے سے امکان یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایلفی و چینٹیلے سٹیڈمین کے خاندانوں کو قریب ایک آدھ ملین ڈالر کی کمائی ہو جائے گی کیونکہ قریب پندرہ کے قریب ٹی وی والے اُن پر دستاویزی فلم بنانا چاہتے ہیں! پیسے کا لالچ بہت بُرا ہوتا ہے! اس لئے پانچ دن کی امیسی روکسین نامی بچی کے باپ ہونے کے دعویدار میدان میں اُتر آئے ہیں!


پچھلے دنوں میں نے عالمی بلاگ پر دو پوسٹ “طرز فکر“ (اول و دوئم) لکھی تھیں جس میں اپنے معاشری میں موجود کچھ مخصوص طرز فکر ویسے جیسے میں نے سنے لکھے دیئے! ایسے ہی طرز فکر مجھے ایلفی کے کم عمری میں باپ بننے کے بعد پرطانیہ میں دیکنھے کو آیا! جو میرے جیسوں کے لئے قابل غور ہے!
اس واقعے کو برطانوی معاشرے کے بگاڑ یا عدم توازن سے تعبیر کیا جا رہا ہے، اخلاقی اقدار زیر بحث آ رہی ہیں! اکیسویں صدی میں معاشرتی  پستی کو ناپا جا رہا ہے! کوئی لبرل حلقوں کو قصوروار بتاتا ہے، اور کوئی اسکولوں میں جنسی تعلیم میں مزید بہتری کی ضرورت کو اہم جانتا ہے!
مختصر وہاں بھی کچھ ہمارے مولوی کی خصلت کے لوگ نظر آتے ہیں! کیا بات ہے!

تو ثابت یہ ہوا وہاں بھی مخصوص طرز فکر پایا جاتا ہے!!خواہ وجہ کوئی بھی ہو۔۔۔