1/18/2009

یہ دہشت گردی نہیں بلکہ وحشت گردی ہے

اسرائیل کا غزہ پر فوجی دہشت گردی کا تیسرا ہفتہ اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے اور ہنوز اس جارحیت کو روکنے کی تمام کاوشیں ناکام ہوئی ہیں، نیز اوباما کی حلف برداری تک یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوتی نظر نہیں آتی! ممکن ہے اُس وقت اس جارحیت کو روک کر اسرائیل اِس کا سہرا اوبامہ کے سر ڈال دے اور ساتھ ہی آنے والے الیکشن میں اسرائیل کی حکمران پارٹی مخصوص فائدہ اُٹھائے۔

ان تین ہفتوں میں روزانہ پچپن کی اوسط سے اب تک قریب ایک ہزار ستر فلسطینی مسلمان شہید ہوئے، جن میں پانچ سو  تک بچے و خواتین شامل ہیں جو کُل شہادتوں کا قریب پنتالیس فیصد بنتا ہے، اس کے علاوہ پانچ ہزار تک زخمی ہوئے ہیں اور پانچ لاکھ کی تمام  آبادی متاثر و قریب نوے ہزار سے ایک لاکھ  بے گھر ہو چکے ہیں ۔

جبکہ  جواب میں صرف چودہ اسرائیلی مارے گئے! ہلاکتوں کی تعداد و فرق یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ آیا یہ جنگ ہے یا اسرائیلی ریاست کی طرف سے کھلی دہشت گردی؟ اسرائیلی افواج نے پورے غزہ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے! ایک ایک رات میں قریب قریب ساٹھ ہوائی حملے غزہ پر ہوتے ہیں اور اسرائیل جواب میں چند حماس کے راکٹ کے حملوں کو جواز بناتا ہے جبکہ خود جون دوہزار آٹھ سے امن معاہدہ کے اختتام تک گاہے بگاہے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جن دوسو پچاس افراد کو شہید کرنے کا جرم اُسے یاد نہیں۔

یہ دہشت گردی نہیں بلکہ وحشت گردی ہے!

اسرائیل نے قریب صرف چار سو دس فلسطینی بچے اپنی وحشت کا شکار بنائے ہیں اور قریب دوہزار زخمی کئے ہیں، یہ وہ تعداد ہے جو جمسانی طور پر متاثر ہوئے ہیں مگر نفسیاتی بیمار ہوئے یا متاثر اُن کا ابھی علم ہی نہیں! اب اسرائیل کو مستقبل میں خود کُش حملوں کی شکایت نہیں کرنی چاہئے کہ خودکُش بمبار تو وہ خود گزشتہ تین ہفتوں سے تیار کر رہا ہے۔

اپنوں کی لاشوں پر نا معلوم کتنے لوگوں نے بدلے کا عہد کیا ہو! اور کتنے آزاد فلسطین کی عملی جدوجہد کے راہی بننے کے خود سے آمادہ ہو چکے ہوں!۔ اسرائیل اس دوران غزہ کی آبادی کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر لے کر اُس پر اپنا جدید اسلحہ استعمال کر رہا ہے جو پہلے دیکھنے میں یوں نہیں آئے ظالم وہ بم گرا رہا ہے جن سے انسانی جسم بری طرح سے جھلس جاتا ہے اور انسان ایڑیاں رگڑرگڑ کر اپنی جان دے دیتا ہے۔

اس کے علاوہ  سفید فاسفورس (اس کا ستعمال جنیوا کنونشن کے تحت ممنوع ہے، 1995 میں اسرائیل نے اس پر دستخط کئے تھے)  بم جو انسانی گوشت کو ہڈیوں تک جلا دیتا ہے اُن کے زیراستعمال ہے ، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسے زخمی ہسپتال میں لائے جا رہے ہیں جن کے جسم بری طرح سے جھلس چکے ہوتے ہیں (جس کا مشاہدہ محتلف جاری ہونے والے تصاویر سے ہوتا ہے)۔

امریکہ و اسرائیل کو حماس سے شکایت ہے جو ایک جمہوری عمل سے اقتدار میں آئی تھی اور ہے،  شکایت وہ اُن مسلم حکمرانوں سے کررہے ہیں جو اپنے اپنے ملک میں عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں!

اِسے کیا کہا جائے؟

چند مسلم حکمرانوں کے گھروں میں یہودی بیویاں ہیں! اہل بنی اسرائیل میں اگر مرد باہر شادی کر لے تو خارج مگر اگر عورت ایسا کرے تو اُس کی اولاد بنی اسرائیل کی اولاد کہلاتی ہے! اس لئے انہیں اعتراض نہیں ہوتا اپنی عورتوں پر۔ اس کا ثمر مصر کی پالسی کی صورت میں نظر آ رہا ہے! جہاں کے تاجروں کی بڑی تعداد یہودی بیویاں رکھتے ہیں۔

آج جب اہل فلسطین کو ضرورت ہے تو مصر نے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں!

کسی بھی قسم کی تقل حمل بند ہے، خواراک و ادویات کے لئے منتظر فلسطینی سرحد کے اُس پار جبکہ خوارک و ادویات سرحد کے اس پار ہیں۔ امدادی ٹیموں کو بھی مصر فلسطین میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہا صرف اٹھائیس زخمی مصر میں داخل ہو پائے ہیں۔ منافقت دیکھے اسرائیل سے ہر طرح معاہدے و کاروبار جاری ہیں مصر کے وہ فلسطینوں کو تیل دینے سے انکاری ہے مگر قابض اسرائیل سے اگلے پچیس سال تک آج کی کی قیمت میں تیل کی فراہمی کا وعدہ ایفا کر رہا ہے!

یار لوگ پُر امید ہیں مستقبل قریب میں سب اچھا ہو جائے گا!

اور آج کی صورت حال کا ذمہ دار حکمرانوں کو دیتے ہیں!

مگر میں نا امید ہوں ، آگے کچھ نہیں ہونے والا، ممکن ہے فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام رُک جائے مگر مسلمانوں کا نہیں رکتا نظر آتا۔ ان کی آواز سننے والا بھی کوئی نہ ہو گا!

او آئی سی بھی صفر جمع صفر کا مجموعہ ہے اور بقول ضمیر جعفری یو این او میں یو دراصل یو ایس اے (امریکہ) کا ہے باقی سب کے لئے نو(NO) ہی نو ہے۔

جب تک عوام کے اعمال درست نہیں ہوں گے حکمران بھی اچھے نہیں ملیں گے، خود تو ہم ہر طرح کی برائیوں میں مبتلا رہے اور حاکم پاکباز ہوں یہ کیسے ممکن ہے؟

کہیں غزہ کو سزا خود ہماری ھی وجہ سے تو نہیں مل رہی ہے

 

عالمی اخبار کے لئے لکھی گئی میری ایک تحریر!!