1/12/2009

ٹوٹ پھوٹ

بھیڑ میں زمانے کی ہاتھ چھوڑ جاتے ہیں
دوست دار لہجوں میں سلوٹیں سی پڑتی ہیں
اک ذرا سی رنجش سے شک کی زرد ٹہنی پر
بھول بد گمانی کے
اس طرح سے کھلتے ہیں
زندگی سے پیارے لوگ اجنبی
سے لگتے ہیں
غیر بن کے ملتے ہیں
عمر بھر کی چاہت کو
آسرا نہیں ملتا
دشتِ بے یقینی میں
راستہ نہیں ملتا
خاموشی کے وقفوں میں
بات ٹوٹ جاتی ہے اور آسرا نہیں ملتا
معذرت کے لفظوں میں
روشنی نہیں ملتی
لذت پذیرائی پھر کبھی نہیں ملتی
پھول رنگ وعدوں کی منزلیں سکڑتی ہیں
راہ مڑنے لگتی ہیں
بے رخی کے گارے سے بے دلی
کی مٹی سے
فاصلوں کی اینٹوں سے
اینٹ جڑنے لگتی ہے
خاک اُڑنے لگتی ہے
واہموں کے سائے سے
عمر بھرکی محنت کو
پل میں توڑجاتے ہیں
اِک ذرا سی رنجش سے ساتھ
چھوٹ جاتے ہیں
خواب ٹوٹ جاتے ہیں

شاعر؛ امجد اسلام امجد

غلاموں کے لئے

حکمت مشرق و مغرب نے سکھایا ہے مجھے
ایک نکتہ کہ غلاموں کے لیے ہے اکسیر
دین ہو، فلسفہ ہو، فقر ہو، سلطانی ہو
ہوتے ہیں پختہ عقائد کی بناء پر تعمیر
حُرف اُس قوم کا بے سود، عمل زار و زبوں
ہو گیا پختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر!

شاعر؛ علامہ اقبال

یقین محکم

مکہ میں قیام کے دوران میرے قریب بوڑھے میاں بیوی کے ساتھ ان کی جوان بہو کا قیام تھا۔ ساس اور بہو کے درمیان طویل لڑائی ہوتی تھی۔ شکست اکثر بہو کی ہوتی تھی۔ ہارنے کے بعد وہ روتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوتی اور ساس سے کہتی۔
“اچھا تو تم نے جتنا ظلم کرنا ہے کر لو‘ میں ابھی طواف کرتی ہوں اور اللہ کے پاس اپنی فریاد پہنچاتی ہوں“۔ یہ دھمکی سن کر ساس پسیج جاتی، معافی مانگتی اور کہتی کہ طوف کے وقت جو منہ سے نکل جائے پورا ہو جاتا ہے۔
ایک روز شدید آندھی آئی اور تیز بارش ہونے لگی۔ نالے کے کنارے مقیم حاجیوں کا سامان کیچڑ میں لت پت ہو گیا۔ ساس نے بہو کی چوٹی پکڑ کر جھنجھوڑا اور بولنے لگی۔
“یہ حرام زادی کہہ رہی تھی، اللہ بڑی گرمی ہے۔ اللہ بارش، اللہ بارش، تمہیں پتا نہیں یہاں ہر دعا قبول ہو جاتی ہے۔“
ذرا ہٹ کر ایک جوان بے اولاد جوڑے کا بسیرا تھا۔ پہلے طواف کے بعد بیوی نے بڑے وثوق سے کہا کہ اِس نے اپنے خداوند تعالٰی سے بچہ مانگا ہے اور اس کی یہ مراد ضرور پوری ہو گی۔
“لڑکا مانگا تھا یا صرف بچہ“ خاوند نے وکیلوں کی طرح جراح کی۔
“لڑکے کی بات تو میں نے نہیں کی ، فقط بچہ مانگنے کی دعا کی۔“ بیوی نے جواب دیا۔
“رہی نا اونٹ کی اونٹ!“ خاوند بگڑ کر بولا۔
اب اللہ کی مرضی ہے چاہے لڑکی دے یا چاہے لڑکا دے۔ اب وہ تجھ سے پوچھنے تھوڑی آئے گا۔اس وقت اگر لڑکے کی شرط لگا دیتی تو لڑکا ملتا۔ یہاں مانگی ہوئی دعا کبھی نا منظور نہیں ہوتی۔“ یہ سن کر بیوی کف افسوس ملنے لگی۔
پھر چہک کر بولی۔ “تم فکر نہ کرو، ابھی بہت طواف باقی ہیں ۔ اگلی بار اپنے خداوند کو لڑکے کے لئے راضی کر لوں گی۔“
ان سیدھے سادے مسلمانوں کا ایمان اس قدر راسخ تھا کہ خانہ کعبہکے گردطواف کرتے ہوئے وہ کوہ طور کی چوٹی پر پہنچ جاتے اور اپنے حقیقی معبود سے رازونیاز کر کے نفس مطمئنہ کا انعام پاتے اور بڑی بے تکلفی سے اپنی اپنی فرمائش رب کعبہ کے حضور پیش کرکے کھٹا کھٹ مہر لگوا لیتے تھے۔ ان کے مقابلے میں مجھے اپنی عمر بھر کی نمازیں، اپنے طواف اور دعائیں بے حد کھوکھلی ، سطحی، بے جان، نقلی، اور فرضی نظر آنے لگیں۔ میرا جی چاہتا تھا کہ میں اس لڑاکا ساس اور بہو اور اس نوجوان کی بے اولاد بیوی کے پاؤں کی خاک تبرک کے طور پر اپنے سر پر دال لو تا کہ کسی طرح مجھے بھی ان کے یقین محکم کا یاک ذرہ نصیب ہو جائے۔

( خود نوشت = قدرت اللہ شہاب کی کتاب= شہاب نامہ)

فتنہ خانقاہ

اک دن جو بہر فاتحہ اک بنت مہروماہ۔۔۔۔. پہنچی نظر جھکائے ہوئے سُوئے خانقاہ
زہاد نے اٹھائی جھجکتے ہوئے نگاہ ۔۔۔۔..ہونٹوں میں دب کے ٹوٹ گئی ضربِ لاالہ
براپا ضمیر زہد میں کہرام ہو گیا
ایماں دلوں میں مَیں لرزہ براندام ہو گیا
ہاتھ اس نے فاتحہ کو اٹھائے جو ناز سے۔۔۔۔ آنچل ڈھلک کے رہ گیا زلِف دراز سے
جادو ٹپک پڑا نِگہ دلنواز سے۔۔۔۔. دل ہل گئے جمال کی شان نیاز سے
پڑھتے ہی فاتحہ جو وہ اک سمت پھر گئی
اک پیر کے تو ہاتھ سے تسبیح گر گئی
زاہد حدودِ عشق خِدا سے نکل گئے۔۔۔۔ انسان کا جمال جو دیکھا پھسل گئے
ٹھنڈے تھے لاکھ حُسن کی گرمی سے جل گئے۔۔۔ گرنیں پڑیں تو برف کے تودے پکھل گئے
القصہ دین، کفر کا دیوانہ ہو گیا!
کعبہ ذرا سی دیر میں بُت خانہ ہو گیا!


(جوش ملیح آبادی)

کمرہ عدالت

جج ساحب نے وکیل سے کہا “ وکیل صاحب آپ اپنی  Limit Cross کر رہے ہیں“

وکیل نے جج کی بات سن کر کرخت لہجے میں جوابن کہا “ کون سالا یہ کہتا ہے؟“

جج نے وکیل کا جواب سنتے ہی اپنی سیٹ پر اپنی پوزیشن تبدیل کی اور وکیل کی جانب دیکھتے ہوئے ایک مخصوص انداز میں کہا “تو آپ مجھے سالا کہہ رہے پے“

حلات کی سنگینی کا اندازہ لگا کر وکیل نے پینرہ بدلا اور کہا“ مائی لارڈ میں تو کہہ رہا تھا کون سا لاء (Law) کہتا ہے“

امبی دے بُوٹے تھلے

اِک بُوٹا امبی دا، گھر ساڈے لگا نی
جِس تھلے بہنا نی، سُرگاں وِچ رہنا نی
کیہ اوس دا کہنا نی، ویڑھے دا گہنا نی
پر ماہی باجھوں نی، پردیسی باجھوں نی
ایہہ مینوں وڈھدا اے، تے کھٹا لگدا اے
ایس بُوٹے تھلے جے، میں چرخی ڈاہنی آں
کوئل دِیاں کُوکاں نی، مارن بندوقاں نی
پِیڑھے نُوں بھناں میں، چرخی نُون پُھوکاں نی
پِھر ڈردی بھابو توں، لَے بہاں کسیدہ جے
یاداں وِچ ڈُبی دا، دِل کِدھرے جَڑ جاوے
تے سُوئی کسیدے دی، پوٹے وَچ پڑ جاوے
پِھر اُٹھ کے پیڑھے توں، بھنجے بہہ جاواں
چیچی دھر ٹھوڈی تے، وہناں وِچ ویہہ جاواں
سُکھاں دِیاں گلاں نی، میلاں دِیاں گھڑیاں نی
کھیراں تے پُوڑے نی، ساون دِیاں جھڑیاں نی
سوہنے دے ترلے نی، تے میریاں اڑِیاں نی
جان چیتے آ جاون، لوہڑی ہی پا جاون
اوہ کیہا دیہاڑا سی، اوہ بھاگاں والا سی
اوہ کرماں والا سی، جِس شُبھ دیہاڑے نی
گھر میڑا لاڑا سی، میں نہاتی دھوتی نی
میں وال دودھائے نی، میں کجلا پایا نی
میں گہنے لائے نی، مَل مَل کے کھوڑی میں
ہیرے لشکائے نی، لا لا کے بِندیاں میں
کئی پھند بنائے نی، جاں ہار شنگاراں تو
میں ویہلی ہوئی نی، آ امبی تھلے میں
پھیر پُونی چھوہی نی، اوہ چند پیارا بھی
آ بیٹھا ساہویں نی، امبی دی چھاویں نی
اوہ میریاں پریتاں دا، سوہنا ونجارہ نی
قصے پردیساں دے، لاماں دِیاں چھلاں نی
گھمکار جہازاں دی، ساگر دی چھلاں نی
ویری دے ہلے نی، سوہنے دی دِیاں ٹھلاں نی
اوہ دسی جاوے تے، میں بھراں ہنگارا نی
ایس گلاں کردے نُوں، پتیاں دی کھڑ کھڑ نے
بدلاں دی شُوکر نے، ونگاں دی چھن چھن نے
چرخی دی گُھوکر نے، پٹیاں دی لوری نے
کوئل دی کُو کُو نے، منجے تے پا دِتا
تے گُھوک سُلا دِتا
تک سُتا ماہی نی، چرخی دی چرخ توں
میں کالکھ لاہی نی، جا سُتے سوہنے دے
متھے تے لائی نی، میں کُھل کے ہسی نی
میں تاڑی لائی نی، میں دوہری ہو گئی نی
میں چُوہری ہو گئی نی، اوہ اُٹھ کھلویا نی
گھبرایا ہویا نی، اوہ بِٹ بِٹ تکے نی
میں کِھڑ کِھڑ ہساں نی، اوہ مُڑ مُڑ پُچھے نی
میں گل نہ دساں نی
تک شیشہ چرخی دا، اوس گُھوری پائی نی
میں چُنگی لائی نی، اوہ پِچھے بھجا نی
میں دیاں نہ ڈاہی نی، اوس مان جوانی دا
میں ہٹھ زنانی دا، میں اگے اگے نی
اوہ پِچھے پِچھے نی، منجی دے گِردے نی
نسدے وی جائیے نی، ہسدے وی جائیے نی
اوہدی چادر کھڑکے نی، میری کوٹھی دھڑکے نی
اوہدی جُتی چیکے نی، میری جھانجر چھنکے نی
جاں ہف کے رہ گئی نی، چُپ کر کے بہہ گئی نی
اوہ کیہا دیہاڑا سی؟ اوہ بھاگاں والا سی
اوہ کرماں والا سی، جس شُبھ دیہاڑے نی
گھر میرا لاڑا سی
اج کھان ہواواں نی، اج ساڑن چھاواں نی
ترکھان سداواں نی، امبی کٹواوِان نی
توبہ میں بھلی نی، ہاڑا میں بھلی نی
جے امبی کٹاں گی، چڑھ کِس دے اُتے
راہ ڈھول دا تکاں گی

قریب 1941 میں یہ نظم موہن سنگھ نے لکھی جو بعد میں ان کی کتاب “ساوے پتر“ میں چھپی!!!! میرے کزن (بھائی) نے مجھے سنائی تھی!!!! اس نظم میں منظر کشی اچھی ہے!!! ایک عورت کی اپنی مرد کو یاد کرنا ایک شرارت اور گھر میں لگے درخت کو بہانہ بنا کر

سنو تم لوٹ آؤ ناں۔۔۔۔۔

سنو تم لوٹ آؤ ناں
میری منتظر آنکھیں
دعا مانگتی آنکھیں
تمہیں ہی سوچتی آنکھیں
تمہیں ہی ڈھونڈتی آنکھیں
تمہیں واپس بلاتی ہیں
یہ دل جب بھی دھڑکتا ہے
تمہارا نام لیتا ہیں
یہ آنسو جب بھی بہتے ہیں
تمہارے دکھ میں بہتے ہیں
کہ بارش جب بھی ہوتی ہے
تمہیں ہی یاد کرتی ہیں
خوشی کوئی جو آئے بھی
تمہارے بن اُدھوری ہے
سنو تم لوٹ آؤ ناں۔۔۔۔۔

باہر کا جھگڑا اور گھر کی مار

بعض باتیں کافی دلچسپ ہوتی ہیں!!! لڑائیاں بھی!!!مار بھی!!! بچپن میں جو پہلا جھگڑا میرا ہوا تھا اس میں میں مار کھا کر آیا تھا!!! پھر گھر آ کر مار کھائی گھر آنے پر پہلا سوال یہ ہوا کہ بھائی غلطی کس کی تھی جب بتایا کہ دوسرے کی تو اگلی کاروائی ہوئی  کہ اگر لڑائی ہوئی تھی تو میں مار کھانے والا کیوں بنا مارنے والا کیوں نہیں!!! اس کے بعد پھر کبھی لڑائی نہ ہوئی!! پھر جب ہم آٹھویں جماعت میں تھے ایک دن ابو نے اپنے سگریٹ لینے کے لئے دکان ہر بھیجا نیا نیا شوق ویڈیو گیم کا چڑھا ہوا تھا کوئی ماہ دو ماہ ہوئے ہوں گے!!! لہذا ویڈیو گیم کی دکان میں جا کھڑے ہوئے!!! گیم دیکھنے (چونکہ ابھی اُس میں ماہر نہیں ہوئے تھے) میں اس قدر مگن کہ کچھ خبر ہی نہیں ، ایک لڑکا پاس آیا کہنے لگا آپ کی جیب میں پچاس روپے تھے؟ جو جیب دیکھی تو ابو کے دیئے ہوئے پیسے غائب تھے!!! فورا کہا ہاں یار تمہیں کیسے پتا؟؟ کہنے لگا وہ لڑکا نکال کر لے گیا ہے!!! میں نے جا اس لڑکے کو کہا “تم نے میری جیب سے جو پیسے نکالے ہیں وہ واپس کرو“ وہ انکاری ہو گیا!!! اور میرا ہاتھ غصہ سے اُٹھ گیا، اور لڑائی شروع ہو گئی بمشکل مار کھانے سے بچے!!! معاملہ پچاس روپے سے ذیادہ ابو کی ڈانٹ (ومار) کا خوف تھا!!!! آس پاس موجود لڑکوں نے اُس لڑکے کی پٹائی کرنے پر داد تو دی مگر ساتھ ہی یہ کہہ کر جان نکال دی کہ اس کا بھائی تو “فلاں“ پارٹی کا ہے اب تیری خیر نہیں!!!! پچاس کا نوٹ اُس لڑکے سے تو نہیں ملا مگر گیم کی دکان کے مالک نے مجھے اپنے پاس بلا کر پچاس کا نوٹ دے دیا اور کہا کہ اُس لڑکے کے واپس آنے سے پہلے پہلے میں وہاں سے نکل جاؤ!!! کہ غالب انکان ہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ آ سکتا ہے!!! لہذا ہم وہاں سے فرار ہو کر گھر لوٹ آئے!! گھر میں امی اور بہنوں نے تو ہماری حالت کا پوچھا تو ہم ٹال گئے البتہ ابو نے اُس کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا!!! شام میں دوستوں سے اس جھگڑے کا ذکر کیا تو اُں کے بیانات خون خشک کر دینے والے تھے!!! کہ وہ لڑکا تو جب تک بدلہ نہیں لیتا معاف نہیں کرتا!!! لہذا اگلے دن ہم نے چھٹی کر لی!!! اور اُس دن شام میں کھیلنے جانے سے پہلے ابو نے گزرے دن ہماری خراب حالت کے بارے میں پوچھ لیا!!! ہم نے ساری بات صاف صاف بتا دی!!! والد صاحب نے باقی باتیں تو جیسے سنی ہی نہیں اور گیم کی دکان پر جانے سے منع کر دیا اور “عزت“ (سمجھ گئے ہوں گے) کی گیم کی دکان پر جانے پر!!! “عزت“ سے فارغ ہو کر بس اتنا کہا کہ کل اسکول لازمی جانا ار اُس لڑکے سے ڈرنے والی کوئی بات نہیں اگر لڑائی کرے تو کسی خوف میں مبتلا ہوئے بغیر اُس کی پٹائی کر دینا اور اُس کا بھائی اُس کے ساتھ ہو تو اُس سے کہہ دینا کہ میرا آپ سے کوئی جھگڑا نہیں !!! اتفاق ایسا ہوا کہ اگلے دن وہ وہ صاحب ہمیں اپنے اسکول کے باہر “آدھی چھٹی“ میں مل گئے مگر اس نے مجھے سے کوئی بات نہیں کی!!!!
نویں جماعت میں تھے کہ ہماری کلاس کا جھگڑا دسویں کلاس سے ہوا!!! دونوں کلاسوں میں کافی ٹھیک ٹھاک قسم کا جھگڑا ہوا!!! ہماری شرٹ کی جیب پھٹ گئی دوسرا گلی کے ایک لڑکے نے اس جھگڑے کا تمام احوال گھر میں بتا دیا!!! اب کے ہمیں اس لڑائی کی وجہ سے ابو سے مار پڑی کہ اسکول مجھے پڑھنے کے لئے بھیجا جاتا ہے اِس کام کے لئے نہیں!! دوسرا میں غلط بعد پڑ جھگڑا ہوں!!!
اُس دن کے بعد ہم کسی بھی معاملہ میں اُس وقت تک لڑائی میں نہ پڑتے جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ میں ٹھیک طرف ہوں!!!! ویسے والد سے کیا کبھی آپ کو مار پڑی ؟؟؟؟مجھے ڈانٹ تو پڑتی رہتی ہے!!! مجھے آخری بار ابو نے کوئی تین برس پہلے (تھپڑ) مارا تھا !!! ڈانٹ تو کوئی ایک ماہ ہو گیا پڑی ہے!!! اور سچی بات ہے اُن کی یہ ڈانٹ و مار میری زندگی کا سرمایہ ہیں!!! انہوں نے کبھی بھی بلاوجہ ایسا نہیں کیا!!! والدین کی مار مار نہیں ہوتی تربیت ہوتی ہے وہ کھا لینا ہی اچھاہے

لا یغیرُ ما۔۔۔

بُرائی سے نفرت ہی کرتا تھا پہلے
کہ بزرگوں سے مَیں نے یہی کچھ سنا تھا
پھر اک وقت آیا_______کہ اوروں کی خاطر،
بُری چیز کو بھی بُری چیز کہتے ہوئے
مَیں جھجکنے لگا!
اب بُرائی کو اچھا سمجھنے لگا ہُوں
یہی “ارتقا“ کی وہ دلدل ہے جس سے بچانا
کسی کے بھی بس میں نہیں ہے
اگر مَیں نہ چاہوں!

شاعر: محسن بھوپال