12/27/2008

او! خبیثَ!

وکالت میں کئی قصے سنانے سے تعلق رکھتے ہیں! یہ قصہ بھی کچھ ایسا ہی ہے!

آغاز وکالت میں شوشل ویلفیر کا نیا نیا شوق تھا! اب کچھ پرانا ہو گیا ہے ناں! مگر اپنا وکالت نامہ لگانے سے گھبراہٹ ہوتی تھی! ساتھ ہی کوئی تنہا کیس چلانے سے بھی! ایسا تنہا ہمارے ساتھ نہیں تھا، دیگر یار دوست بھی کچھ ایسی کیفیت کے حامل تھے! تب ہی کی بات ہے ہمارا ایک وکیل دوست ایک مائی اماں کے ساتھ راہ چلتے سامنے آ وارد ہوا! ہمارے یہ دوست بھی خلق خدا کے خدمت گزار بننے کے شوقین ہیں!
ماں جی موٹے موٹے آنسوؤں سے ساتھ پولیس والوں کو بد دعا دیتی جا رہی تھی! ‘اللہ کریں پولیس والوں کو اللہ اُٹھا لیں‘ اماں کے اکلوتے بیٹے کو پولیس والوں نے موبائل فون چھننے کے کیس میں جیل بھیج دیا تھا! ماں کا دعوٰی تھا کہ اُن کا بیٹا نہایت شریف و نونہال ہے! اُس نے کبھی ڈاکا تو کجھا راہ میں میں پڑی ہوئی کسی کی چیز پر ملکیت کا دعوٰی نہیں کیا!
اماں کے ساتھ اُن کے بیٹے کے کیس کی ایف آئی آر حاصل کرنے مطلوبہ کورٹ کے کلرک کے پاس جا پہنچے۔ دوست نے جیب سے جناب کو اُن کا مخصوص ‘ٹیکس‘ ادا کر کے ایف آئی آر حاصل کی! پھر اُس نے اپنے سینئر کا وکالت نامہ اماں کو دیا کہ بیٹے سے دستخط کروا کر لے آنا! وہ ہمارے منہ کی طرف دیکھنے لگی! بقول اُس کے مجھ سے یہ کام نہیں ہوتا، خیر پولیس وین کے ڈرائیور جو جیل سے قیدی لے کر اتا ہے اُس سے رابطہ کرکے اُس سے ذریعہ وکالت نامہ دستخط کروانے کا پروگرام بنایا! وہاں پہنچے وکات نامہ دیا! اب اُس کو مطلوبہ معلومات دیں! تو وہ مسکرا کر دیکھنے لگا! میرے دوست سے مجھے اشارہ کیا! جیسے کہہ رہا ہے پہلے میں نے نقد ویلفیر کی ہے اب تمہاری باری ہے! مفلسی میں آٹا گیلا! خیر مجبوری تھی! کام سے پہلے مزدوری ادا کی گئی!
اماں کو تسلی دے کر بھیج دیا! کورٹ کے دیگر ذاتی کیسوں سے فارغ ہو کر! لائبریری میں بنائے گئے پروگرام کے مطابق ملےآ ایف آئی آر کا مطالعہ کی! چند قانونی نقائض جو ہماری سمجھ میں اُس میں ایسے تھے تو کام آ سکتے تھے! نوٹ کئے! مزید کی تلاش کے لئے وہاں سے اُٹھ کر کورٹ میں جا کر فائل میں سے دیگر کاغذات کا مطالعہ کر کے اُس کیس کو ٹائپ کرکے پرنٹ نکالنے کی ذمہ داری اُٹھا کر ہم دفتر آگئے! اور دوست اپنے دفتر چلا گیا!
کیس ٹائپ کیا! دوست کو ای میل کیا اُس نے اُس ایک نظر دیکھا ہو گا! چند مزید باتیں ایڈ کی! واپس ای میل کیا! ہم نے پرنٹ نکال کر اگلے دن اُس کے حوالے کر دیا! بعد میں وکالت نامہ حاصل کرنا! اور ضمانت فائل کرنا اُس کے سر تھا! اور اس دوران ہونے والا خرچا بھی!!!
دوپہر میں اُس کا ایس ایم ایس آیا دو دن بعد کی تاریخ ملی ہے! ہم نے ڈائیری میں نوٹ کیا! کیس لاء تلاش کئے! اگلے دن دوست کو بتائے اُس نے بھی تیاری کر رکھی تھی! اُس کا کہنا تھا کیس وہ چلائے گا! میں نے کہا ٹھیک ہے! اماں کو بھی وہ ہی ڈیل کر رہا تھا!
مخصوص دن ہم دونوں کورٹ میں تھے! Bail چلائی! جج نے تین دن بعد آڈر پر رکھ دیا! اور اُس دن آرڈر نہیں آیا! جج صاحب نے معذرت کی کہ کام کے رش کی وجہ سے آڈر نہیں لکھوا سکا! دو دن معاملہ آگے چلا گیا! اور دو دن بعد ضمانت منظور ہو گئی! پچاس ہزار کی!
ماں کو بتایا! اور اسے کہا کہ اماں پندرہ بیس دن صبر کرنا! پھر ضمانت کم کرنے کی درخواست لگا دے گے تمہارے پاس کہاں پیسے ہوں گے!!! ا ٹھیک ہے کہہ کر وہ چلی گئی مگر اگلے ہی دن ایک بندے کو ساتھ لے کر کورٹ میں آ گئی! اُس کے گاڑی کے کاغذات ضمانت کے طور پر کورٹ میں داخل کروانے کے لئے! ضمانت کورٹ میں داخل ہوئی! کورٹ نے ویریفیکیشن کا آڈر کیا! اگلے دن بندہ باہر!
جس چیز نے مجھے حیرت میں ڈالا وہ یہ تھی کہ جس مائی کے پاس پہلے فیس و کورٹ کے لئے پیسے نہیں تھے! بیٹے کی ضمانت منظور ہوتے ہی کیسے نہ صرف ضمانت کا انتظام ہو گیا؟ نیز اُ نے اس دن کورٹ میں بھی ہزار پندرہ سو روپے خرچ کر ڈالے! اور ہمیں صرف دعائیں دیں!!! خیر!
تیسرے دن دوست سے کورٹ میں ملاقات ہوئی تو اُس نے بتایا! کہ وہ مائی کا لڑکا ضمانت پر نکلنے کے بعد دفتر شکریہ کرنے آیا تھا ور میں سینئر سے ملاقات کروانے جب اُن کے کمرے میں اُسے لے کر گیا تو میرا سینئر اُس دیکھ کر کھڑا ہو گیا!
میں نے کہا کیوں؟
تو بتانے لگا کہ سینیئر نے اُس سے کہا کہ ‘اوہ خبیثَ! میرا موبائل تو نے چھینا تھا فلاں فلاں جگہ‘ اُس نے یہ تو نہیں کہا ہاں مگر تین گھنٹے بعد وہ اُس ہی ماڈل کا موبائل دینے آ گیا! اور مائی کو بیٹے کی حرکتوں کی خبر تھی!
کیا سمجھے!