7/15/2006

آج اور کل

ایک ہی مسافت کے دو مرحلے


ایک دوسرے کی جانب بڑھتے ہوئے
رکنا نہ اس کا مقدر، ٹھہرنا نہ اس کا مقدور
آج اور کل
ایک دوسرے سے متعارف، ایک دوسرے پہ موقوف
ایک دوسرے کا مقسوم
یوں ایک دوسرے سے مختلف بھی منسلک بھی
کہ ایک نمودار ہوچکا ہے دوسرے کی آہٹ سنائی دے رہی ہے
آج کا وجود بہت بڑی ذمہ داری ہے
آج موجود ہے اور مخاطب ہے
کل بھی دور نہیں، کل کبھی دور نہیں ہوتا
آج کی بات سوچو کہ ہر کل کا جواب آج کل میں موجود ہے
آج شب و روز کا تسلسل، کل اس کی صبح
آج بنیاد کل اُٹھان
آج تعمیر کل عمارت
آج خون پسینہ، کل ایک لہلہاتی فصل
آج صعوبت، کل سعادت
آج مہلت کل میزان
پس دیکھ لو کہ کل کے لئے کیا سمیٹ رہے ہو