7/06/2006

احمديت ايک نظر ميں

احمدیت یا قادیانیت یا مرزائیت ایک ہی گروہ کے نام ہیں!!!! مرزا غلام احمد نہ صرف اپنے چند عجیب و غریب دعوٰی کی بناء پر خود مرتد ہوا بلکہ اپنے ساتھ کئی دوسرے لوگوں کو بھی لے ڈوبا!!!!

یہ صاحب جہاد کے متعلق کیا رائے رکھتے تھے ؟اور آیا وہ کتنی درست تھی ؟ اسے ایک طرف رکھ دیا جائے تو بھی معاملات کافی سنگین نوعیت کے ہیں!!!

جناب کا ایک بہت اہم دعویٰ نبوت کا ہے کہ وہ نبی ہیں!!! رسول ہیں!!! کئی مرتبہ وہ خود کو مہدی بھی بیان کرتے ہیں !!! کبھی خود کو مسیح موعود کہا ہے!!!

مرزا صاحب نے اپنے نبی ہونے کا دعوٰی کیا تھا!! 1915 میں مرزا بشیرالدین محمود نے “حقیقۃ النبوۃ“ نامی کتاب لکھی جس کا موضوع یہ تھا کہ مرزا صاحب شرعی معنی کے لحاظ سے ہی حقیقی نبی ہیں یہ کتاب لاہوری پارٹی (یہ بھی مرزا صاحب کا گرویدہ گروہ ہے جو کہتا ہے کہ مرزا صاحب نبی ہونے کے مدعی نہیں بلکہ مہدی ہونے کے دعویدار ہیں) کے جواب میں لکھی گئی ہے، اس کے صحفہ 184 سے 233 تے لاہوری پارٹی پر حجت قائم کرنے کی غرض سے مرزا غلام احمد کی نبوت کے بیس دلائل دیئے گئے ہیں اور اس میں 39 عبارتیں خود مرزا کی کتابوں سے نقل کی گئیں ہیں؛ چند یہ ہیں؛

“میرا دعوٰی ہے کہ میں رسول و نبی ہوں“ (بدر پانچ مارچ 1908)

“پس خدا نے اپنی سنت کے موافق ایک نبی کے مبعوث ہونے تک وہ عذاب ملتوی رکھا اور جب وہ نبی مبعوث ہو گیا ۔۔ تب وہ وقت آیا کہ ان کو ان کے جرائم کی سزا دی جائے“ (تتمہ حقیقۃ الوحی  صحفہ 52)

“میں اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں جسکے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے“ (تتمہ حقیقۃ الوحی  صحفہ 68)

“میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں“ ( مرزا صاحب کا آخری خط مندرجہ اخبار عام 26 مئی 1908 )

ہمارا اہل مسلم کا ایمان ہے کہ خضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم جو قران پاک سے بھی ثابت سورۃ الاحزاب کی آیت 40 ہے؛

“محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)  باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن اللہ کا رسول ہے اور آخری نبی ہے“

اس کے علاوہ رسول اللہ کے فرمان بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں؛

“بنی اسرائیل کی رہنمائی انبیاء کیا کرتے تھے ۔جب ایک نبی وفات پا جاتا تو دوسرا بنی اس کا جا نشین ہوتا مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں“

ابتدا ( قریب دس سال) میں تو مرزا جی نے خود کو “مثل مسیح“ سمجھا!!! ان کا کہنا یہ تھا کہ مجھے الہامات میں “مسیح“ کہا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میں (مرزا) “مثل مسیح“ ہو!!! اس لئے ہی اپنی ایک تصنیف “براہین احمدیہ“ (جو ابتدائی دور کی تصنیف ہے) کے ایک حاشیہ میں لکھتے ہیں۔

“اور مسیح علیہ اسلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائیگا۔“ ( صفحہ 498 - 499)

لیکن بعد میں 1891 میں مرزا صاحب نے یہ کہنا شروع کردیا وہ “مسیح بن مریم“ جن کے نازل ہونے کی خبر رسول اللہ صٰلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے وہ میں ہی ہوں!!!! قادیانیوں کے دوسرے امام اور مرزا کے بیٹے نے اپنی کتاب “حقیقۃ النبوۃ“ مییں لکھا ہے کہ

“حضرت مسیح موعود باوجود مسیح کا خطاب پانے کے دس سال تک یہی خیال کرتے رہے کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے حالانکہ آپ و اللہ تعالٰی مسیں بنا چکا تھا، جیسا کہ براہین کے الہامات سے ثابت ہے“ (صحفہ 142)

خود کو “مسیح موعود“ قرار دینے کے لئے ضروری تھا کہ حیات مسیح اور نزول مسیح (آسمان سے زندہ اتارے جانے) سے انکار کیا جائے!!! لہذا یہ کام “ازالۃ الادہام“ میں کیا!!! یہ 1891 کی تصنیف ہے۔ “حیات مسیح“ کے عقیدہ کو مرزا صاحب نے “الاستقا ضحیمہ حقیقۃ الوحی“ میں “شرک عظیم“ (صحفہ49)  اور جناب کے بیٹے  مرزا محمود نے نے “حقیقۃ النبوۃ“ اسے “سخت شرک“ (صحفہ 53) کہا ہے۔

اب ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ اسلام کو اللہ تعالٰی نے زندہ سلامت اوپر اٹھا لیا تھا!! جیسا کہ قرآن پاک کی سورۃ النساء کی آیات 157 - 158 میں بیان ہے

““درحقیقت جو لوگ مسیح کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں اُن کے پاس واقعہ کا کے بارے میں صیح علم نہیں ہے، صرف بے اصل اٹکلیں اور بے بنیاد قیاس آرائیاں ہیں جن پر وہ چلتے ہیں، سچ بات یہ ہے کہ انہوں نے ان کو قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا ہے اور اللہ پوری قوت اور حکمت والا ہے“

سورۃ النساء کی آیت 158 میں “رفع“ کے معنی “اٹھائے جانے“ کے ہیں اس آیت میں “بل“ کا کلمہ درمیان میں لگا کر فرمایا “بَل رَّفَعَہُ اللّہُ اِلَيْہ“ یعنی انہیں قتل نہیں کیا گیا!!! بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا!!!  قادیانی “رفع“ سے “روحانی رفع“ اخذ کرتے ہیں کہ حضرت عیٰسی کے روحانی درجات بلند ہوئے!! عربیت سے واقفیت رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ “رفع“ سے مراد یا معنی ایسے ہونے چاہئے جو قتل کی ضد ہو!!!

پھر اس ہی سورۃ  کی آیت 159 میں بتایا گیا ہے

“اور سب ہی اہل کتاب عیٰٰسی علیہ اسلام کی موت سے پہلے اُن پر ضرور ایمان لے آئیں گے اور قیامت کے دن وہ ان کے بارے میں شہادت دیں گے“

سورۃ زخرف کی آیت 61 سے مراد قیامت سے پہلے حضرت عیٰسی عیلہ اسلام کا ظہور ہے؛

“ اور وہ (عیٰسی علیہ اسلام) نشانی ہیں قیامت کی تم اس بارے میں شک نہ کرو“

اس کے علاوہ احادیث کی روشنی میں حضرت عیسٰی کے ظہور کے ساتھ دجال کی آمد کا ذکر ہے!!! اب دیکھے نبی ہونے کے دعویدار یہ!!!!! اس پر ان کا کہنا یہ کہ یہ مسیح موعود ہیں!!!! پھر کلمہ کیوں رسول اللہ کا ؟؟؟ دل تھامیں کہ ان کا ایک الہام یوں بھی ہے!

“محمد رسول اللہ والذین معہ اشد آ ء علی الکفار رحما بینھم۔ اس وغی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ صحفہ چار مطبوعہ ربوہ- تیسرا ایڈیشن)

آگے مزید اقتباس؛

“جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع بنوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعوٰی کیا؟“ ( ایک غلطی کا ازالہ حفہ  10)

اسی کتاب کے کے اسی صحفہ پر ایک اور دعوٰی ملتا ہے؛

“میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت “واخرین منھم لما یلحقو بھم“ (یہ سورۃ جمعہ کی تیسری آیت) بروزی طور پر وہی بنی خاتم الاانبیاء ہوں، اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے، اور مجھے آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے“

“مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے“ (صحفہ 56 کشتی نوح طبع اول قادیان 1902 )

آخری بنی ہونے کا دعوٰی بھی جناب نے کر لیا!!!

“آنحصرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا، جو مسیح موعود اور مہدی معہود (مرزا ) کے ظہور سے پورا ہوا“ (تحفہ گولڑویہصحفہ 94 - طبع اول قادیان 1902 )

اور کلمہ والی بات !!! پھر !!! “کلمہ الفصل“، جس کا مولف مرزا بشیر احمد ہے، کے صحفہ 158 میں درج ہے؛

“ہاں مسیں موعود (یہاں مرزا جی مراد ہیں) کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہو گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ مسیں موعود کی بعث سے پہلے تو “محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں صرف آپ سے پپلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے، مگر مسیح موعود کی بعث کے بعد “ًمحمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتہ ہوگی، لہذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذباللہ “لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ“ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا بلکہ اور شان کے ساتھ سے چمکنے لگ جاتا ہے“ غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود کی آمد نے “محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں ایک رسول کی ذیادتی کر دی گئی ہے“

مطلب یہ کہ وہ کلمہ میں یوں داخل ہو گئے ہیں!!! حد ہو گئی!!!!

اس کے علاوہ قادیانیوں کا کہنا ہے کہ غیر احمدی تمام کافر ہیں؛ مرزا محمود نے1911 میں “تشخید الازہان“ میں صاف الفاظ میں تحریر کیا ہے کہ مرزا کے نہ ماننے والے تمام افراد کافر ہیں۔ اس کے علاوہ مرزا جی یہ دعوٰی 1904 میں کر چکے ہیں!

یو بغور جائرہ لیا جائے تو مرزا صاحب بنی ،مسیح مود، محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور ایک جگہ حضرت علی  ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں!!!! ان اقتباس کی روشنی میں ایک عام فرد آرام سے جان سکتا ہے کہ وی کیسا آدمی تھا ؟؟؟ اگر اس کی پیشن گوئیوں کو (جو اس کی زندگی میں ہی جھوٹی ثابت ہو گئی تھیں) نظر انداز کر کے بھی ان اقتباس کی نظر میں اسے پرکھا جاسکتا ہے۔

قادیانی ویب سائیٹ

ِ
 

لاہور پارٹی ویب سائیٹ

قادیانی حقیقت بیان کرتی ویب سائیٹ