4/14/2006

اشک بار نگاہوں کا سوال!

جس دل میں محمد کی محبت نہیں ہوتی اس پر کبھی اللہ کی رحمت نہیں ہوتی میرا عقیدہ ہے کہ ذکر خدا میں اگر یہ نام نہ ہو تو عبادت نہیں ہوتی
منگل گزرا!!! مگر کیسے !!!، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کو منانے کے لئے نشتر پارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانے جمع تھے۔ مغرب کی نماز کا وقت ہوا، علماء اکرام نے اسٹیج پر اور باقی حاضرین نے نیچے میدان میں صف بندی کی ، ابھی فرض نماز پڑھائی جارہی تھی آخری رکعت تھی، کہ اسٹیج پر دھماکہ ہو گیا!!!! میدان میں موجود لوگوں نے فرض نماز پڑھ کر جو منظر دیکھا وہ نا قابل یقین تھا!!! جو زخمی تھے انہیں ہسپتال پہنچانے کا انتظام ہونے لگا، افراتفری کا عالم تھا، موبائل پر رابطے شروع ہوئے، کہتے ہیں ایک سے دو منٹ کے لئے چند موبائل سروس نے کام کرنا چھوڑ دیاتھا!!!، ٥٧ افراد شہید ہوئے ان میں اہل سنت کی مرکزی قیادت بھی شامل ہے!!!! ۔ ١٢ ربیع الاول کے دن کی تقدس سے کوئی مسلمان انکار نہیں کرسکتا، اس دن اور ایسی محفل پر حملہ ، سوچ کر ہی حیرت ہوتی ہے!!!!! نشتر پارک میں پچھلے ٣٥ سال سے یہ دن مذہبی جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے!!! ٣٥ سال میں یہ پہلا اور پاکستان کی تاریخ کا اپنی توعیت کا بد ترین سانحہ ہے، جس میں یوں ایسے حرمت والے دن اتنی بڑی تعداد میں اہم مذہبی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایسا کیوں ہوا؟؟؟؟ کیا انتظامات ناقص تھے؟ کیا انتظامیہ غافل تھی؟؟؟ کیا ملکی اور بین الاقوامی حالات کے تناظر میں اس کا اندیشہ نہ تھا؟ بناتے والے بتاتے ہیں کہ جب دھماکہ ہوا اس وقت میدان میں نہ ہی پارک کے اردگرد قانون نافذ کرنے والے اداروں میں سے کسی ادارے کا کوئی فرد یا عملہ حفاظت کے نقطہ نظر سے مامور تھا نہ موجود !!! جہاں دھماکہ کے تین سے چار منٹ بعد مختلف چینلز پر اس کے رونماہونے سے متعلق خبر نشر ہو گئی تھی وہیں قانون نافذ کرنے والوں کی پہلی گاڑی سانحہ کے آدھ گھنٹے بعد آئی!!!! رینجر کی اس گاڑی کے ساتھ وہاں موجود لوگوں نے جو اس وقت حالات کے دباؤ کی وجہ سے مشتعل ہو چکے تھے پتھروں اور جوتوں سے ان کی خدمت کی ،لہذا وہ گاڑی سے ٢٠ سے ٢٢ افراد کو زخمی کرتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئے ۔سی سی پی او صاحب حادثے کے ٤ گھنٹے بعد وہاں پہنچے!!!! اب ایسی انتظامیہ سے بندہ کیا امید رکھے؟؟؟ اہم موقعوں اور دنوں سے پہلے ہونے والی میٹینگوں میں کیا ہوتا ہے؟معلوم نہیں!! جس میں یہ لوگ حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیتے ہیں، اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں! اسے فائنل شکل دیتے ہیں!!! اس موقعے سے ہفتہ پہلے بھی یہ سب کچھ کیا گیا تھا تو پھر ان انتظامات کا ذرا سا بھی عکس نظر کیوں نہیں آیا؟ وہ خفیہ کیمرے کہاں ہیں جن کا ذکر اخباری بیانات میں کیا جاتا تھا!؟ یا سب ڈھکوسلا تھا! صدر یا وزیراعظم یہاں کراچی آ جائیں تو وہ کراچی کے ایک حصے میں ہوتے ہیں تو ٹریفک دوسرے حصے کی جام کردی جاتی ہے کہ عزت مآب نے یہاں سے گزرنا ہے!!! سنا ہے صرف صدر کی ایسی وی آئی پی حفاظت کے نتیجے میں اب تک ٢٧٠ سے ٣١٥ تک لوگ ایمولینس میں ہسپتال پہنچنے کے بجائے اللہ کے پاس پہنچ جاتے ہیں ،تازہ ترین واقعہ کراچی کی ظل ہما کا ہے جسے کئی کالم نویسوں نے بیان کیا ہے!!! مگر یہ اللہ کے بندے جو اللہ کے بنی، رسول، محبوب، حبیب کی ولادت کا جشن منانے نشتر پارک میں جمع تھے ان کی حفاظت ان کی سیکیورٹی کوئی معنی نہیں رکھتی؟ چلو اچھا ہے ناں! چند انتہا پسندوں کا خاتمہ ہو١! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہنسنے کی بات نہیں رونے کا مقام ہے!!! اس کے بعد شہرو ملک کے حالات سوگوار ہو گئے نیز معاملات خراب تر ہوتے جا رہے ہیں کوئی ٹھوس اقدام اٹھانے، درست راہ پر تفتیش کرنے کے بجائے میڈیا کے سامنے پریس کانفرس میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں!!!! کچھ مشتعل ہیں اور کچھ خوف زدہ ! کہ ہم پر الزام نہ آ جائے! چند (نام نہاد) مذہبی و سیاسی لیڈر میڈیا کے سامنے اپنے اپنے مخالفین پر دبے دبے الفاظ میں الزام لگا رہے ہیں !!! کوئی پوچھے یہ سیاست چمکانے کا کون سا موقع ہے؟ حکومت کا تین دن کے سوگ کا اعلان !!! باقی پارٹیوں کی ہڑتال!!! سنسان سڑکیں!!! خوف سے گھروں میں بیٹھے لوگ!! یہ کیا ہے؟ کوئی ٹھوس قدم کیوں نہیں!!! ہر کسی کے قدم اس طرف جا رہے ہیں جس میں تباہی ہے!!! کوئی ایسی باتیں کرتا ہے کہ لگتا ہے کہ فرقہ واریت کروا کر رہے گا!!! کوئی بیرونی ہاتھ کا نام لے کر ہاتھ کھڑے کر لیتا ہے کہ اب کیا ہوسکتا ہے! کسی کے پاس خودکش بمبار کا بہانہ ہے !!!! پھر مغربی میڈیا جس نے اس سانحہ کو صاف صاف فرقہ واریت کی روشنی میں دیکھا اور دیکھایا ہے !!! اس خبر کے ساتھ ہی ماضی کی چند تلخ یادوں کا تذکرہ کر کے اپنی مرضی کا رنگ دینا چاہا ہے!! بی بی سی نے تو اسے فورا ہی “پاکستان اور فرقہ بندي“ کے بینر تلے ڈال دیا!!!! کیا یہ ہمیں آپس میں لڑتے دیکھنا چاہتے ہیں؟ اشک بار آنکھیں یہ سوال کرتی ہیں کہ کیا میرے اس غم کا مداوا ہو گا کیا میرے ان سوالوں کا جواب ملے گا؟ اس سال جب ہم عید میلاالنبی توہین آمیز خاکوں کی بناء پر ذیادہ جوش و خروش سے منا رہے تھے کہ دشمنان اسلام کو معلوم ہو جائے ہم اپنے بنی سے کس قدر محبت کرتے ہیں تو یہ حملہ !!!!! یہ کیا ہے!!!!