3/07/2006

بش دي آنياں تے جانياں

چاچا جی دے لارے تے رنڈے رین کنوارے، مگر اپنے چچا جی (انکل سام) نے تو لارا بھی نہیں لگایا، ہم تو سمجھ رہے تھے شائد لارا ہی لگا دیں، وہ آئے اور چلے گئے، بش اور مش آپس میں ملے، کہتے ہیں دونوں کے درمیان کئی اہم امور پر بات چیت ہوئی۔۔۔۔ اہم امور وہ جو بش کے نزدیک اہم تھے۔۔۔۔ اور جو مش کے تھے؟؟ وہ امور ہی کہاں تھے، لہذا ان پر کوئی خاص بات ہی نہیں ہوئی۔۔۔ کئی اہم امور میں “کئی“ سے مراد وہ معاملہ جو بش کے لئے کئی کے برابر ہے۔۔۔۔ وہ ہی جن کی “گرد“ سے بھی جناب کو “دہشت“ محسوس ہوتی ہے لہذا اس “دہشت“ بھری“گرد“ کو بٹھانے سے متعلق گفتگو کی گئی۔
ون ٹو ون ملاقات بھی ہوئی، بغیر وردی والا صدر تو آگے پیچھے سے شکایات سن کر آیا تھا، کوئی لسٹ کی بات کر رہا تھا اور کسی نے “اتنک وادی“ کا ذکر کیا !!!! ، کان بھرے گئے تھے، غصہ سے بھرے ہوئے آئے، ون ٹو ون ملاقات میں پریس کیا اور باہر آ کر پریس کانفرنس، ہائے رے یہ صحافی!!! مش کے امور کے متعلق سوال کر بیٹھے! پھر جواب ایسے آئے کہ ان کی طرف سے جواب ہی سمجھے، مسئلہ کشمیر !!! ارے خود حل کرو !! اپنی مصیبت ہمارے گلے میں مت ڈالو!!! کرو مذاکرات !!! ہون آرام اے، ہم تو مذاکرات مرنے جاتے ہیں اور دوسرے مذاق کرتے ہیں اب اس کا کیا کریں؟ دفاعی تعاون کا ذکر کیا تو آگاہ کیا گیا کہ دفع ہی تعاون کر رہے ہیں آپ کو دفع کر رکھا اور دوسروں کو گلے لگا رکھا!!! ہو گیا ناں دفع ہی تعاون! اور تجارتی تعلقات!!! ان پر تو تالا ہی سمجھے!!!!
البتہ حکم صادر ہو گیا کہ جمہوریت بحال کی جائے!!! وردی والا صدر اپنا منہ لے کر رہ گیا! لو میرا یہ بھرم بھی نہیں رہنے دیا!! جمی ہوئی ریت بھی ہٹ گئی !!! بش کے آنے جانے پر تو بلے بلے نہ ہوئی البتہ انضمام صاحب گیند بلا سیکھانے جا پہنچے۔ ہم تو سنتے آئے تھے کہ بیس بال کرکٹ کا بگڑا ہو ا کھیل ہے۔۔۔۔۔ اب معلوم ہوا کرکٹ بیس بال سے ملتا جلتا کھیل ہے، بھائی یہ ہی تو اپنے کرکٹ کے کپتان نے بش کو بتایا ہے اب یہ الگ بحث کہ کیسے بتایا ہو گا؟۔اب خود سمجھ لیں ہم کیسے کوئی بات انہیں سمجھاتے ہیں!!!