2/05/2006

کھلی چھٹی

عالم اسلام آج کل ایک عجیب مقام پر آ کھڑا ہوا ہے۔۔۔۔۔ اس کے پاس کوئی بھی مخلص لیڈر نہیں۔۔۔۔۔ اس مذہب کے پیروکار ایک عجیب الجھن کا شکار ہیں۔۔۔۔
اسے عجیب طرح کی صورت حال کا سامنا ۔۔۔۔ ہر نیا دن ایک نئے تنازعہ کے ساتھ آتا ہے، ایک نیا محاذ!!!! ایک نیا امتحان۔۔۔۔ دہشت گردی کا الزام!!! امن کے دشمن!!! جیسے الزام، انتہاپسندی!!!!! بنیاد پرست!!! جیسے خطاب۔۔۔۔ جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔۔۔ دراصل چور خود چور چور کا شور مچا کر دوسرے کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔۔۔۔۔ اس کی تازہ ترین مثال ڈنمارک کے اخبار “جیلینڈ پوسٹن“ کی ہے جس نے رسول اللہ کی شان میں گستاخی کی ہے، اس اخبار نے ٣٠ ستمبر ٢٠٠٥ کو چند تصویری خاکے شائع کیئے، کیا محمد ایسے ہوتے (نعوذبااللہ) کے عنوان کے تحت، جس پر قریب دو ہفتے بعد ٣٥،٠٠٠ افراد نے احتجاج کیا۔۔۔۔ بات وہاں ہی نہیںختم ہوئی، ١٠ جنوری ٢٠٠٦ کو ناروے کے اخبار “میگازِنٹ“ نے اس تصویری خاکوں کو دبارہ شائع کیا، جرمن اخبار “ڈائی ویلٹ“ ،فرانسیسی رونامہ “فرانس سوئر“ اور چند دوسرے اخبارات بشمول نیوزی لینڈ اور ہالینڈ کے اخبارات نے ان توہین امیز اور طنزیہ خاکوں کو “آزادی رائے“ کے بہانے سے اسلام دشمنی(اس کے علاوہ کیا کہا جائے؟) شائع کیا۔۔۔۔ ڈنمارک کی پولیس کو کئی مسلم تنظیموں نے شکایت کی ہے کہ اخبار “جیلینڈ پوسٹن“ کی یہ حرکت “ضابطہ فوجداری ڈنمارک“ کی دفعات ١٤٠ اور ٢٦٦(ب) کے تحت جرم ہے، دفعہ ١٤٠ کے تحت کسی بھی شخص کو ڈنمارک میں موجود کسی بھی مذہبی گروہ کی تمسخر اڑانے کی ممانعت ہے، جبکہ دفعہ ٢٦٦(ب) کسی ایسے بیان یا معلومات کو جرم گردانتا ہے جس سے کوئی گروہ مذہبی اعتبار سے خوفزدہ ہو،اسے اپنی ہتک محسوس ہو، یا خود کو کمتر محسوس کریں، اب دیکھیں کہ کیا رد عمل آتا ہے، کسی نئے بہانے کے لئے تیار رہے۔۔۔ یہ بھی خوب ہے،ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری، اہل مغرب جب بھی کوئی غلط کام یا اہل اسلام کے خلاف سازش یا شرارت کرتے ہیں تو اس پر پشیمان ہونے یا معافی مانگنے کے بجائے کوئی نا کوئی بہانہ تراش لیتے ہیں۔ کوئی پوچھے دل آزاری کی آزادی تو “آزادی رائے“ نہ ہے، آزادی کا مطلب کھلی چھٹی نہیں ہے، اگر ہے تو بھاڑ میں جائے ایسی آزادی ،ہر بات کی چند حدود ہوتی ہیں ان کو کراس نہیں کرنا چاہئے۔ اس حرکت سے بلا کسی شک شبہ کے اہل مسلم کے دل کو ٹھیس پہنچی ہے، ہمارے جذبات مجروح ہوئے ہیں، جو امت ایک اللہ ،ایک رسول اور ایک قرآن کی بنیاد پر ایک ہے، جن کے قریب ان کا نبی رول ماڈل ہے، جن کی محبت کا مرکز اللہ اور اس کا رسول ہے، جو نعت کی محفل سجاتے ہوں، ان کے رول ماڈل کو مذاق کا نشانہ بنانہ کہاں تک درست ہے؟؟؟ شائد چند لوگ اسے غلط کہے مگر میری رائے بھی وہ ہی ہے جو اکثریت کی ہے کہ ان کا معاشی و معاشرتی بائیکاٹ جب تک وہ آئیندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ نہ کر لیں۔ جب وہ ایک ہو سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟؟؟

جنت

جنت!!!!! کی خواہش ہر کسی کو ہوتی ہے اس لئے ہمیں بھی ہے!!!! زندگی !!!! سب کو پیاری ہوتی ہے لہذا شہہ رگ کو کٹنے نہیں دینا!!!! آزادی!!!! ہر ایک کا حق ہے تبھی اسے پانے کی جدوجہد جاری رکھنی ہے!!!!! اپنے!!!! جو خود سے الگ نہ ہوں ان سے جڑ کر رہا جاتا ہے!!!!! لہذا اہم معاملات میں ان سے یکجہتی منائی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کشمیر!! ہماری جنت!!! ہماری زندگی!!! کشمیری ہمارے اپنے!!! ان کی آزادی کی جدوجہد ہماری جدوجہد!!!! 5 فروری !!!! ہمارے اپنوں سے یکجیتی کا دن!!!!یوم یکجہتی کشمیر!!!!
×××××××××××
مسئلہ کشمیر کی تاریخ کا ایک طاہرانہ جائزہ
Technorati Tags: , , , ,