1/05/2006

تازہ ُتک بندی

چراغ کے بجھ جانے سے
اجالے سمٹ جانے سے
اندھیرا پھیل جانے سے
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی

غم کے دلدل میں
آنسوں کے بھنور میں
سسکیوں کے جھرمٹ میں
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی

بھیڑ کے چھٹ جانے پر
اپنوں کے بچھڑ جانے پر
تنہا رہ جانے پر
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی

مگر درد سے نا آشنائی ہو
اندر بے حسی کی پرچھائی ہو
سانس تو چلتی رہتی ہے
موت تب بھی نہیں آتی
پر زندگی زندگی نہیں رہتی