11/15/2005

راستوں کی مرضی ہے

بے زمین لوگوں کو بے قرار آنکھوں کو بد نصیب قدموں کو جس طرف بھی لے جائیں راستوں کی مرضی ہے بے نشان جزیروں پر بدگمان شہروں میں بے زباں مسافر کو جس طرف بھٹکادیں راستوں کی مرضی ہے روک لیں یا بڑھنے دیں تھام لیں یاگرنے دیں وصل کی لکیروں کو توڑ دیں یا ملنے دیں راستوں کی مرضی ہے اجنبی کوئی لا کر ہمسفر بنا ڈالیں ساتھ چلنے والوں کی راکھ بھی اُڑا ڈالیں یا مسافتیں ساری خاک میں ملا ڈالیں راستوں کی مرضی ہے بے زمین لوگوں کو بے قرار آنکھوں کو بد نصیب قدموں کو جس طرف بھی لے جائیں راستوں کی مرضی ہے (مصروفیت تا حال جاری ہے)۔