9/14/2005

ڈوریTag

مجھے جہانزيب اور قدیر رانا نے ٹیگ کیا۔۔۔۔یوں میں اس ڈوری سے بند گیا ہو۔۔۔ پانچ سال پہلے پانچ سال پہلے میں اپنے گھر میں تھا۔۔۔۔۔؟ ۔۔۔۔مذاق!۔۔۔انٹر کے امتحان دے کر فارغ تھا۔۔۔نتیجہ کا انتظار تھا، یعنی انٹر(انٹرمیڈیٹ نہ کہ گھسنا) سے ایگزیسٹ (برخاستگی) ہی سمجھے۔ساتھ ہی یہ سوچ رہا تھا کہ آگے سائنس ہی کو ذریعہ تعلیم بناؤ یا آرٹس کی طرف کود جاؤں، دراصل میڑک کے ابتدائی دور ہی میں نے وکالت کی فیلڈ میں کودنے کا آرادہ کر لیا تھا والد صاحب کی خواہش پر، انٹر تک سائنس پڑھنے کی دو وجہ تھی ایک فوج میں جانے کا شوق دوسرا کسی نے کہا تھا آرٹس تو نالائق تو پڑھتے ہیں کم ازکم انٹر تو سائنس میں کرو۔۔۔سو کرلیا۔۔۔رزلٹ کے بعد آرٹس کی طرف رجوع کیا۔۔۔اور سچی بات ہے کہ اس وقت ہی مطالعہ کی عادت پڑی خاص طور پر سیاسیات اور تاریخ اسلام نے سوچ کو الگ ہی رخ کی طرف موڑ دیا یوں رٹے کے طریقہ کار کو چھوڑ کر سمجھ بوجھ اور پرکھنے کی عادت پڑی ساتھ ہی باتوں اور واقعات کو پھیلا کر دیکھنے کی عادت پڑی۔۔۔۔۔۔۔شائد اس کی ایک وجہ میرے استاد تھے ؟ہاں! وہ ہی تھے ایک سال پہلے ایک سال پہلے میں قانونی کنوارہ پن (ارے بھائی وکالت ،ایل ایل بی) کے دوسرے سال کے امتحان کے رزلٹ کا انتظار تھا اور ساتھ ہی پنجاب کے ٹور پر تھا۔۔۔چھ سال بعد گیا تھا۔۔۔بہت مزا آیا۔۔تمام کزن اور رشتے داروں سے مل کر۔۔۔ واپس آ دوبارہ پڑھائی شروع ہو گئی۔۔۔ہاں! ایک دلچسپ واقع! سال پہلے کا۔ہوا یہ کہ کالج(ایس ایم لاء) میں میرے دوست کا ایک کزن “جیو“ میں کام کرتا ہے اس کو کہہ کر ہم نے جیو کے پروگرام میں شرکت کی کوئی سبیل کرنے کو کہا۔۔اور اسے“اُلجھن سلُجھن“ کے پاس مل گئے ہم گئے پروگرام کی شوٹنگ میں حصہ لیا (ایک دن میں دو پروگرام ریکارڈ ہوئے) اور واپس آگئے۔۔۔الگلی مرتبہ پھر پاس کا بندوبست ہو گیا۔۔دوست نے کہا بھائی ساتھ جا رہے ہو تو وہاں کچھ نا کچھ لوگوں کے مسائل کے متعلق رائے دینا ہم نے کہا ٹھیک ہے یہ کیا مسئلہ ہے۔۔۔ابتدائی گفتگو کے بعد(کیمرہ آف کر کے) جب حاضرین سے پوچھا گیا کہ کون کون مشورہ دے گا تو ہم نے بھی ہاتھ کھڑا کر دیا اب جو ہم نے(سوچ رکھا تھا) بولنا تھا وہ ایک دوسرے صاحب نے کہہ دیا اب ان کے بعد ہماری باری آئی تو ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔۔۔فورا کچھ نہ آیا تو اس بات کو ہی بدل کر کہنے کا ارادہ کیا رائے دینے کا آغار کیا تو روک دیا گیا کہ کیمرہ فوکس کرنے دیں،میں نے دوبارہ گفتگو شروع کی تو میزبان ٹھیک ہماری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی (کہا گیا تھا کیمرہ کے بجائے ان کی طرف دیکھا جائے) ۔۔میں کچھ سٹپٹا گیا نظر ہٹا کر دوسری طرف کر لی جہاں کی اس طرف ان کا شائد ایڈیٹیگ روم تھا بہر حال جو بھی تھا بھائی میری تصویر آرہی تھی۔۔رنگ کالا تھا کافی۔۔اب ادھر میں یہ بول رہا تھا ادھر میں اپنے رنگ کالا آنے کے بارے میں سوچ رہا تھا ساتھ ہی مجھے محسوس ہوا کہ میری آواز کچھ کانپ رہی ہے شائد گبھراہٹ سے(کیمرے کا خوف) اب جو کچھ میں نے بولنا تھا میں بھول گیا۔۔۔۔اول فول بکواس کی اور مائک سے جان چھرائی یہ سب کام کل دو منٹ سے کم وقت میں ہوا مگر مجھے دو گھنٹوں پر محیط محسوس ہوا۔۔۔۔میری اس اول فول کو سراہا گیا (تعجب ہے)۔۔سنا دیکھایا بھی گیا تھا(میرے گھر کیبل نہیں ہے)۔۔۔اس کے بعد اگلی مرتبہ جب پروگرام میں شرکت کرنے گیا تو اس کا ٹاپک کافی ذیادہ بولڈ تھا لہذا اس کے بعد کبھی اس پروگرام کی ریکاڈنگ پر نہیں گیا۔۔۔۔۔ موسیقی! گانوں کے بول مجھے پورے یاد نہیں رہتے۔۔۔بس پنچ لائین یاد رہتی ہے یا وہ لائین جو پنچ کرے۔۔۔نئے پرانے سب اچھے گانے سنتا ہوں خاص طور پر عارفانہ کلام ،عارفانہ کلام سننے کی عادت ابو کی وجہ سے پڑی۔۔۔ اسنیکس! اسنیکس میں سب ہی اچھا لگتا ہے۔۔۔پکوڑے سر فہرست ہیں۔۔۔ سو ملین ڈالر! ارے !یہ سو ملین ڈالر مجھے دے گا کون؟۔۔۔۔اگر ملے تو سب سے پہلے تھپڑ مارو گا جو بھی سامنے ہوا اسے،تاکہ مجھے یقین ہو جائے کہ حقیقت ہے کہی خواب تو نہیں۔۔۔پھر آگے کا سوچوں گا۔۔۔ جہگیں جہاں میں جانے کو تیار رہتا ہوں! کمپیوٹر کے سامنے۔۔۔۔۔دوستوں کی محفل میں۔۔۔کسی مباحثے میں۔۔۔۔۔۔کسی تقریب میں بڑی خوشیاں! عمرہ کی سعادت۔۔۔۔۔اچھی کتاب کا تحفہ۔۔۔۔امتحان میں کامیابی(کسی بھی) یعنی کسی کی امید پر پورا اترنے پر ٹی وی! اس کا شوق نہیں پالا۔۔۔۔ویسے اگر کہیں کوئی سیاسی یا معاشرتی موضوع پو پروگروم لگا ہو تو پورا دیکھتاہو۔۔۔ کھلونے! ارے! میرے یہ کون سی عمر ہے ان سے کھلنے کی۔۔۔۔ کپڑے نہیں پہنوں گا! جو مجھے اچھے نہ لگے!۔۔۔اور لڑکیوں کے کپڑے۔۔۔ ٹیگ! جناب آپ اور آپ جی کہا آپ بھی۔۔۔ اس کے علاوہ زکریا انکل اجمل دانیال خاور شعیب شیپر نبیل میرا پاکستان(پاکستان کے سیاسی حلات کے بارے میں لکھا جائے تو مزا آئے) عادل منیر احمد طاہر ہی محبت کی ڈوری ہے۔۔۔۔اس لئے آپ لوگوں کو اس میں باندھا ہے۔۔۔۔جو پہلے ہی اس ڈوری کے تحت بندھ کے لکھ چکے ہیں۔۔۔انہیں خود سے آگے پا کر لائین میں پیچھے لگ گئے ہیں