7/30/2005

نوبل انعام

"سنو اور غور سے سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب یہ پرائز نوبل نہیں اگنوبل ہو گیا ہے۔ یہ اب صرف مغرب اور مغربی اقدار پر یقین رکھنے والوں کے لیے ہے۔ یہ آج تک کسی ایسے شخض کو نہیں ملا ،جس نے مغربی بالادستی قبول نہ کی ہو۔ اس میں سیاست اتنی ہوتی ہے کہ ایک زمانے میں جونہی کوئی روسی مصنف بھاگ کر یورپ آ جاتا جو اپنی تحریروں میں اپنے ملک کو گالیاںنکالتا تھا ۔ مثلا سونرے انشن تو فوری طور پر نوبل انعام۔۔۔۔۔ دہشت پسند بیگن کو نوبل امن انعام۔۔۔۔۔۔ علامہ اقبال کو نہیں البتہ ٹیگور کو ادب کا انعام۔۔۔دنیا کے ایک عظیم ناول نویس یاسر کمال کواس لیے انعام نہیں دیا جائے گا کہ وہ کرد ہے اور ترک ناپسند کریں گے۔ ایک ایسے یہودی ادیب کو انعام۔۔۔۔۔۔جو صرف پولینڈ کی پولش زبان میں لکھتا ہے اور انڈونیشیا سےالگ ہو جانے کے لیے جدوجہد کرنے والے مشرقی تیمور کے ایک پادری "بشپ بیلو" اور لیڈر "ہو سے ہوتا" کوامن انعام کہ شاباش بیٹا مسلمان ملک سے الگ ہونے کوشش میں ہم تمارے ساتھ ہیں۔ کیا یہ انعام کسی کشمیری لیڈر کو بھی مل سکتا ہے۔جو اپنی آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔اور آخری بات مدر ٹریسا کوامن انعام اس لیے کہ وہ مغرب سے آئی ہے اور عبدالستار ایدھی جو دنیا کے ہر انعام بلند ہے ۔اسے اس لائق نہیں سمجھا گیا کیونکہ وہ مشرق سے آیا ہے،چنانچہ نوبل پرائز بھی اب گینڈا ایوارڈ بن گئے ہیں" (مستنصڑ حسین تارڑ کی کتاب 'ہزاروں ہیں شکوے' سے اقتباس)۔