4/19/2005

کامیابی

کامیابی میں بڑے اندیشے ہوتے ہیں ۔ کامیاب مسکراہٹ میں بڑے آنسو پنہاں ہوتےہیں۔ کامیاب فاتح آخر ایک قاتل ہی ہوتا ہے۔ ہلاکو ہویا سکندر اعظم ، کام ایک ہی ہےاور غالبا انجام بھی ایک ہی ہے۔دنیا کو فتح کرنا اور خالی ہاتھ گھر سے باہر پردیس میں مرنا کامیابی کا المیہ ہے۔ایک کامیاب ڈاکٹر کو لیں۔ڈاکٹر کا مدعا اور اصل مدعا خدمت انسانیت ہے۔مریضوں کی خدمت ،دنیا سے بیماری کو کم کرنا اور اس طرح نیکی اور عبادت کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرنا ، لیکن ایک کامیاب ڈاکٹر آہستہ آہستہ اپنی کامیابی کے تقاضوں سے مجبور ہو کر اتنا بے بس ہو جاتا ہے کہ بے حس ہو جاتا ہے۔ وہ مریضوں سے فیس وصول کرتا ہے۔نیکی کے بجائے مال کا معاوضہ اور یہ عمل اس حد تک بڑھتا ہے کہ عذاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔میڈیکل سینٹروں کی تعداد میں اضافہ خدمت خلق کے بجائے طب کو انڈسٹری میں تبدیل کرچکا ہے۔ کامیابی کے دامن میں مسرتیں نہیں حسرتیں ہیں۔
۔(واصف علی واصف کی کتاب "دل دریا سمندر" سے اقتباس)۔
میرے دوست ماجد کے بقول ڈاکٹر دراصل تیس روپے کی خاطر دوسرے کی زندگی سے کھیلتا ہے۔

انقلاب

ایک ملک میں انقلاب آیا۔اس ملک کا ایک باشندہ بیرونی ملک کے دورے سے واپس آیا ۔ائرپورٹ سے نکل کر اس نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا "کسی نزدیکی دکان پر ٹھہرجانا، مجھےسگریٹ خریدنا ہے"۔ "سگریٹ خریدنے کے لئے آپ کو چرچ جانا پڑے گا"۔ڈرائیور نے جواب دیا ۔ "کیا؟ چرچ تو وہ جگہ ہے جہاں عبادت کی جاتی ہے "۔ "لوگ عبادت کے لئے یونیورسٹی جاتے ہیں"۔ "کیا؟ یونیورسٹی میں تو وہ لوگ نہیں ہوتے جو پڑھتے ہیں؟"۔ "نہیں پڑھنے والے تو جیل مہں ہوتے ہیں"ڈرائیور نے کہا "جیل میں تو مجرم ہوتے ہیں"۔ "اوہ نہیں، وہ تو برسر اقتدار ہیں"۔