4/03/2005

تجھےعشق ہو خدا کرے

تجھےعشق ہو خدا کرے تجھے اس سے کوئی جدا کرے تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جائے تیری آنکھ پرنم رہا کرے تو اسکی باتیں کرے تو اسکی باتیں سنا کرے تو اسے دیکھ کر رُک پڑے وہ نظر جھکا کر چلا کرے تجھے ہجر کی وہ چھڑی لگے تو ہر پل ملن کی دعا کرے تیرے خواب بکھریں ٹوٹ کر تو کرچی کرچی چنا کرے تو نگر نگر پھرا کرے تو گلی گلی صدا کرے تجھے عشق ہو پھر یقین ہو تو تسبیہوں پہ اسے پڑھا کرے میں کہوں عشق ڈھونگ ہے تو نہیں نہیں کیا کرے