ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 06/05/15

روہنگیا: مظلوم ترین آبادی

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ 1982 میں شہریت سے متعلق قانون پاس ہونے کے بعد قریب اٹھارہ لاکھ مسلم آبادی پر مصیبتوں کے پہاڑ اتارے گئے خاص کر روہنگیا نسل کے مسلمانوں پر کہ انہیں برما (میانمار) کا شہری ماننے کے بجائے غیر ملکی قرار دیا گیا یوں ایک شہری کو حاصل تمام بنیادی حقوق سے اِس مسلم آبادی کو محروم کر دیا گیا یہاں تک آزادانہ نقل و حمل جیسا بنیادی انسانی حق بھی سلب کر لیا گیا مگر حقیقت یہ ہے کہ اس خطے میں روہنگیا نسل سمیت دیگر مسلمان آبادی پر سولہویں صدی سے ہی سختیاں شروع ہو گئی تھی جب جانوروں کی قربانی سے روکنے کے عمل سے مظالم کا آغاز ہو گیا تھا.
دنیا میں یہ کہاجاتا ہے کہ بودھ امن پسند ہیں ان کی تعلیمات کے مطابق انسانی جان کیا جانور کو مارنا بھی ظلم ہے. مگر میانمار کے معاملات سے تو یہ فقط "پراپیگنڈہ" لگتا ہے. مسلم کشی کو لیڈ کرنے والا بودھ بھگشواء ہی تو ہے. ایک سزا یافتہ، مذہبی تعصب کا شکار. اور قاتلوں کی فوج بودھ بھگشوؤں پر مشتمل ہے.
میانمار میں جس قسم کے قوانین پاس ہو رہے ہیں اور حکومت جس طرح کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس ساری بربریت و غارت گری کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے. مسلم آبادی پر دو سے ذیادہ بچے پیدا کرنے پر پابندی عائد ہے. ایک مسلم خاندان پر لازم ہے کہ وہ دو بچوں کے درمیان کم از کم تین سال کا وقفہ لازم ہے. دوسری طرف میانمار صدر صاف الفاظ میں روہنگیا آبادی کو ملک چھوڑنے کا مشورہ دے چکا ہے.
ہم نے سنا تھا کہ عورت کا دل بہت نرم ہوتا ہے، چونکہ وہ ایک جان کو جنم دیتی ہے اس لئے انسانی جان کی قدر کو مرد کے مقابلے میں بہتر سمجھتی ہے، مگر معلوم ہوا کہ جب بات اقتدار کے لالچ کی ہو انسانی جان مسلم آبادی کی ہو تو ایک بودھ مذہب کی سیاستدان عورت کی جانب سے سوال کرنے پر بھی مذمت نہیں کی جاتی. انگ سان سوچی نے بھی ایسا ہی کیا یوں اس خیال کو تقویت پہنچی کہ امن کا نوبل انعام دراصل میرٹ پر نہیں پسند پر دیا جاتا ہے.
برما میں ہونے والی اس مسلم کشی میں وہاں کی حکومت، اپوزیشن اور مذہبی طبقے تمام کے تمام ایک ہی لائن پر ہیں، جس سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر اس انسان کشی کو قبولیت کا درجہ حاصل ہے ایسے میں اس (روہنگیا) مسلم کشی  کا حل کیا ہو گا؟ بیرونی دنیا اور خاص کر مسلم دنیا کیسے انسانی جانوں کو بچا پائے گی؟ کیا بیرونی دنیا ان روہنگیا نسل کو اپنے یہاں پناہ گزیر کرے گی اور اگر ہاں تو کب تک؟
میانمار سے باہر ہونے والے احتجاج و مذمتی جلوس وہاں کے لوگوں کا ذہن نہیں بدلنے والے کم از کم اتنی جلدی نہیں کہ روہنگیا کی آبادی کی مزید بڑے نقصان سے بچ سکے. بیرونی دنیا کی پابندیاں ممکن ہے کسی حد تک بہتری کا راستہ نکال لیں مگر اصل حل یہ ہی ہے کہ کوئی ایسی قوت ہو جو قاتلوں کا ہاتھ موڑ سکے خواہ وہ مقامی آبادی سے نکلے یا بیرونی حملہ آوروں کی شکل میں! کیا مسلم دنیا ایسا ایڈوینچر کر سکی گی؟ نہیں تو بھول جائیں کہ آپ و میں میانمار کی روہنگیا آبادی کو بچا پائے گے البتہ روہنگیا مقتولین کے خاندانوں سے ایسے شدت پسندوں کی پیدائش ضرور ہو گی جو دوسروں پر رحم شاید نہ کریں.