ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 02/19/13

ہائے اوئے تیری سیاست!!

آئینی پٹیشن کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی ایسے معاملے پر ہو جس سے متعلق ملک میں رائج قوانین میں کوئی حل موجود نہ ہو دوئم یہ کہ اُس معاملے سے آپ کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہوں!یعنی یہ کہ آپ متاثرہ فریق (aggrieved person) ہوں!اور جب بھی آپ عدالت میں کوئی آئینی درخواست لے کر جاتے ہیں تو آُپ کو یہ چند ایک باتیں ثابت کرنی ہوتی ہیں! اول یہ کہ اس پٹیشن کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ تھا قانون کو حرکت لانے کا یا اگر تھا تو ایسا کہ اُس کو اپنانے سے متاثرہ فریق کو ممکنہ انصاف ملنا ممکن نہ تھا! دوئم یہ کہ عدالت کو آنے والا شخص متاثرہ فریق ہے یعنی اُس کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں! اس کے علاوہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ متاثرہ فریق کی بدنیتی اُس معاملے میں نہ ہو، اور اس کے علاوہ یہ کہ فریق ہی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر عدالت سوال کرے تو وہ عدالت کوبتائے کہ کیسے درخواست پرعدالت کو Jurisdiction حاصل ہے اس کے علاوہ چند دیگر کسوٹیاں بھی ہیں ۔ ان تمام امتحانوں کو پاس کرنے کے بعد عدالت معاملے کی جانچ کی طرف جاتی ہیں آیا اُس کا کیا ممکنہ حل ہو گا اور کیسے؟ اور متاثرہ فریق کی کیسے دادرسی کی جائے ورنہ کیس یا درخواست خارج ہو جاتی ہے۔
سپریم کورٹ اور طاہر القادری
گزشتہ دنوں ہمارے ایک دھرنے والی شخصیت نے سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن سے متعلق ایک ایک درخوست پیش کی اور وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ وہ کیسے متاثرہ فریق ہیں؟ خود کو متاثرہ فریق بتانے کے لئے یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ ممکنہ امیدوار ہو سکتے ہیں آئندہ الیکشن کے, واقعی الیکشن لڑنا ضروری نہیں تھا خود کو متاثرہ فریق بنانے کو! یہ درخواست جناب ذاتی حیثیت میں دی تھی ۔ جناب کی دوہری شہریت ہے پاکستانی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ کینیڈا کے شہری بھی ہے اس بنا پر وہ الیکشن لڑنے کے اہل نہیں کیونکہ آئین کے آرٹیکل 63 (1) (c) میں اس کی ممانعت ہے۔ قانونی نقطہ نظر سے الیکشن کا ممکنہ امیدوار ہی الیکشن کمیشن کی تشکیل پر سوال اُٹھا سکتا ہے ووٹر نہیں!لہذا درخواست خارج کردی گئی! اگر محترم واقعی اپنے مقصد کے حصول کے لئے مخلص ہیں تو دوہری شہریت کو چھوڑ پر خالص پاکستانی شہریت پر بھروسہ کرتے ہوئے دوبارہ میدان میں اُتر جائیں! مگر قانونی اعتبار سے تب بھی اُن کو اپنی نیت نیتی ثابت کرنا ہو گی! جس پر اُن کے اُس بیان سے شبہ پیدا ہوجاتا ہے جسے مصطفے ملک صاحب نے “”ساڈا ایہہ حال اے تے ساڈی امت دا کی حال ہووے دا“ والی مثال سے دیا۔
درخواست خارج ہونے پر ان صاحب نے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ دوہری شہریت والے پاکستانی کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں اور چند میڈیا پرسنز اور تجریہ نگار بھی کچھ ایسا ہی تاثر دے یا لے رہے ہیں۔ یہ ایک غلط بات ہے جیسا اوپر بیان کیا ہے۔ مختصر فیصلہ اور اخباری رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نہ صرف محترم نے نہ صرف عدالت میں ایسے برتاؤ کے مرتکب ہوئے جو توہین عدالت کے ذمرے میں آتا ہے بلکہ باہر میڈیا کے سامنے اب تک ایسا اقدام اُٹھا رہے ہیں! معلوم ہوتا یہ دوہری شہریت کے ہی نہیں بلکہ دوہری شخصیت کے بھی مالک ہیں!