ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 03/16/12

ارتقاء میرٹ

معیار بدلتا جا رہا ہے! ایک دور تھا ملک میں میرٹ کی تعریف کچھ تھی اور اب کچھ ہے! پہلے انتخاب یوں ہوتا کہ مقابلہ کم تھا لہذا آپ مطلوبہ معیار کی حد کو نہیں بھی آتے تھے تو بھی انتخاب میں آ جاتے تھے! نوکری دینے والا پوچھتا میاں تم قابل معلوم ہوتے ہو کیا فلاں ڈگری ہے؟ ادھر آپ نے ہاں کہا اُدھر وہ آپ کو نوکری کی آفر کر دیتا آپ انکاری ہوتے تو اُس کے پاس آپ کو اُس نوکری کے فوائد بتانے کے لئے بے شمار دلیلیں ہوتے پھر معیار بدلہ اور ڈگری والے کو سفارش کی ضرورت پڑنے لگی تب ڈگری و سفارش میرٹ بن گیا! وقت کے گزرنے کے ساتھ زر کی اہمیت معاشرتی زندگی میں نظر آنے لگی تو نوکری کے خواہش مندوں نے سفارش کا توڑ رشوت سے کیا یوں لوگ جاننے لگے کہ کس سیٹ کی کیا قیمت ہے یوں ڈگری ، سفارش اور رشوت کبھی انفرادی طور پر اور کہیں اجتماعی طور پر معیار ٹھہرے اور قابلیت کہیں پیچھے رہ گئی! اب معاملات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ یار دوست ایک ہاتھ میں ڈگری لے کر کسی سفارشی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں جا کر التجاء کی جاتی ہے کہ “ہمارا بندہ قابلیت کے اعلی معیار پر ہے کسی سے سفارش کر دیں کہ رشوت لے کر اُسے یہ نوکری دلوا دے امیدوار نے مطلوبہ ڈگری کے حصول میں امتحانات میں “یہ” پوزیشن لی “ضلع/شہر” میں، نوکری کے لئے دیئے گئے تحریری امتحان میں بھی اچھے مارکس لے لے گا”