ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 01/27/12

اللہ جانے کون بشر ہے؟

بڑے بزرگ کہتے ہیں انسانوں میں ہونا ایک بات اور انسان ہونا دوسری بات ہے۔آبادی میں میں درندے بھی ہوتے ہیں اور فرشتے بھی! انسان سب سے کم ہوتے ہیں! مگر شکلیں سب کی ایک جیسی! اس انسان نما مخلوق میں ایک گرہ ایسا بھی ہے جو عمر میں مختلف مراحل میں ان تینوں درجات سے گزرتا ہے۔ جس کی کوئی ممکنہ ترتیب نہیں ہے۔ بہروپئے بھی پائے جاتے ہیں جو انسان یا فرشتے کا روپ اپنا کر اپنی درندگی کی تسکین کرتے ہیں۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جیت حق و سچ کی ہوتی ہے مگر تاریخ بتاتی ہے کئی بار باطل کی حکمرانی کئی تہذییوں و نسلوں کو برداشت کرنی پڑتی ہے اور جب تک حق سچ کا پلڑا بھاری ہوتا ہے آبادی میں موجود بہروپئے ایک مخصوص تعداد کو گمراہ کر کے یہ باور کروا چکے ہوتے ہیں کہ دراصل باطل ہی حق ہے۔
یہ ہی تباہی کا نقطہ عروج کہ ایک گروہ گمراہی کی اُس نہج پر ہو کہ خود کو درست جان کر باطل کی کامیابی کے لئے ایک مخلص جدوجہد کرے۔