ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 01/10/11

دو قصے

پرسوں اپنے کامیاب گورنری کے لئے دیئے گئے انٹرویو کے بعد جب پیپلزلائر فورم کے چیرمین کراچی کے پیپلز پارٹی کے وکلاء کے ساتھ وقت گزار رہے تھے تو ایک شریک محفل کے اس جملے پر کہ "بھائی ان کے ساتھ ابھی جس نے کوئی تصویر بنانی ہو یا وعدہ لینا ہو لے لےورنہ بعد میں کیا معلوم ملاقات ہو بھی یا نہیں؟" تو جواب میں اُن حضرت نے یہ قصہ سنایا!
ایک سابقہ گورنر پنجاب گورنری ملنے سے قبل اپنے ایک دوست کے ہمراہ اکثر شکار کو جاتے تھے اپنے کا وہ دوست جانوروں کی اوازیں نکالنے کا ماہر تھا! جب وہ صاحب گورنر بنے تو جناب کے دوست اُن سے ملنے گورنر ہاؤس پہنچے تو سیکورٹی والوں نے انہیں اندر داخل نہ ہونے دیا جواب میں اُس دوست نے باہر ہی کھڑے ہو کر جانوروں کی آوازیں نکالنا شروع کر دی تو کھر صاحب نے کہا بھائی اس بندے کو اندر انے دوں!! لہذا آپ لوگ بھی وکیل ہو تحریک میں نعرے لگانے کی پریکٹس ہو گئی ہے شروع ہو جانا!! پھر کون روک سکے گا آپ کو داخلے سے؟
اس کے علاوہ ایک اور نہایت دلچسپ و (بتانے والے کے بقول) سچا قصہ یوں ہے!
ہمارے ملک کے ایک صوبے کے وزیراعلی جن کے متعلق اہل خبر جانتے ہیں کہ وہ مخصوص نشے کے شوقین ہیں، اُس ہی نشے میں مدہوش اپنے پہلے اسلام آباد کے دورے سے واپسی پر اپنے صوبے میں لوٹے تو سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر وزیراعلی ہاؤس کی جانب روانہ ہوئے! ہوئے پروٹوکول کی گاڑیوں نے ہارن/سائرن بجایا، گھبرا کر اپنے ڈرائیور سے مخاطب ہوئے!
“ابے! گاڑی تیز چلا، لگتا ہے اپنے پیچھے پولیس لگ گئی ہے"
ڈرائیور نے عرض کیا جناب پولیس پیچھے نہیں لگی آپ اس صوبے کء وزیراعلی ہو یہ آپ کے پروٹوکول کی گاڑیاں ہیں! آپ کی حفاظت ہر مامور ہیں تو انہیں اطمینان ہو!!!
کمال ہے ناں!!!