ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 04/01/10

خیبر پختون خواہ

"جناب کیسے ہیں؟"
اللہ کا کرم ہے محترم! آپ سنائیں کیسے آنا ہوا۔
"ویسے ہی گزر رہا تھا سوچا آپ سے ملاقات کر لی جائے۔"
اچھا کیا جو چکر لگا لیا ہمارا بھی دل کر رہا تھا آپ کی صورت دیکھنے کو۔
"محترم سنائے کیا حالات ہیں! کل آپ کے گھر سے کافی ہلے گلے کی آوازیں آ رہی تھی!۔"
ہاں وہ 'ساجد اقبال راحت' کی پہلی سالگرہ تھی ناں۔
"محترم! ہمارے علم میں تو اس نام کا کوئی بچہ یا بڑا آپ کے گھر پر نہیں ہے۔"
ارے جناب یہ 'ماجد' کا نیا نام ہے۔
"کیا؟ خیر سے!۔"
بھائی اُن کی پیدائش سے ہی جھگڑا شروع ہو گیا تھا نام کا یہ تو اپ کے علم میں ہو گا ناں۔
"جی جی محترم۔"
اُن کی نانی اُن کا نام 'ساجد' رکھنا چاہتی تھی، دادی 'اقبال' کے لئے بضد تھی۔ ہم نے جھگڑا ختم کرتے ہوئے اُس وقت نام 'ماجد' رکھ دیا مگر کل سالگرہ پر وہ ہنگامہ ہوا خدا کی پناہ ننیال والے 'یپی برتھ ڈے ساجد' اور  ددھیال والے 'ہیپی برتھ ڈے اقبال' کا شور مچانے لگ پڑے۔ ہم کہا یہ کیا بہودگی ہے؟ مگر دونوں طرف کے افراد اپنی ضد پر قائم تھے۔ لہذا ہم نے اعلان کر دیا اج کے بعد سے 'ماجد' کو 'ساجد اقبال راحت' پکارا، لکھا اور بتایا جائے گا۔
"یہ آپ نے اچھا کیا! جھگرا ختم کر دیا۔"
ارے میرا ماجد بیٹا کیسا ہے؟
"محترم ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کہ یہ اب'ساجد اقبال راحت' ہو گئے ہیں۔"
ہاں بھائی مگر مارے لئے تو ماجد ہی ہے ناں۔
"محترم بُرا نہ منائے تو ایک بات کہو۔"
جی فرمائے۔
"جتنا جھگڑا نام پر کیا ہے اتنی توجہ تربیت پر دے دیں تو نام کی عزت رہ جائے گی ورنہ۔۔۔۔۔۔"