ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 01/22/10

ایک منٹ کے عالم

کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کی ایک ہی اولاد تھی، بادشاہ اُسے زندگی کے دیگر میدانوں میں کامیاب دیکھنا تو چاہتا تو تھا ہی مگر ساتھ ہی اُس کی دلی خواہش تھی کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ وہ ایک بڑا عالم بن جائے لہذا اپس نے اپنے وزیر خاص کو سلطنت کے بڑے بڑے عالم بلانے کے لئے کہا۔
ایک مخصوص دن جب تمام عالم ایک جگہ جمع تھے تو اپنے لاڈلے کے اُستاد کے چناو کے لئے بادشاہ نے اُن سے ملاقات کی پہلے عالم سے پوچھا اگر میرا بیٹا اپ کی شاگردگی میں آ جائے تو آپ اُسے کتنے عرصہ میں عالم بنا دو گے اُس نے جواب دیا کل آٹھ سے دس سال کا عرصہ لگے گا مگر شرط شہزادہ کی اپنی دلچسپی پر بھی ہے، اس کے بعد یکے بعد دیگر دوسرے عالموں سے بھی اس بابت استفسار کیا کسی نے سات، کسی نے نو، کسی نے آٹھ سال کا ٹائم پیریڈ دیا، اتنے میں ایک نے اسے چونکا دیا جب اُس نے کل عرصہ ایک منٹ کا بتایا، بادشاہ حیران ہوا اور اُس نے ایک منٹ کے لئے اپنے بیٹے کو اُن عالم کی شاگردگی میں دے دیا۔ عالم شہزادہ کو ایک طرف لے گیا اور اُسے کچھ بتا کر واپس لے آیا۔ اب جو اُس کا امتحان لیا گیا تو اُس نے پہلے ہی سوال پر اعتراض کردیا کہ یہ سوال ہی غلط ہےاور پوچھے گئے ہر سوال میں وہ اختلافی نقطہ نکال لیتے۔
معاملہ یہ سامنے ایا کہ اُستاد صاحب نے انہیں یہ ہی بات سیکھائی تھی کہ بیٹا کوئی کچھ بھی پوچھے اُس کی بات سے اختلاف کر لینا آپ کو لوگ عالم مانے گے۔ ایک دن اس ایک نقطہ سے وہ یوں مار کھا گیا کہ ایک بار کسی نے اُس سے کہا کہ "بادشاہ سلامت آپ کے والد محترم ہیں" تو ایک منٹ کے عالم جناب شہزادہ نے فورا کہا "حضرت میری ناقص رائے کے مطابق اس میں بھی اختلاف ہے"۔
ہمیں یہ لطیفہ ہمارے ایک دوست نے ہمارے ایک جملہ "اختلاف زندگی ہے اسے نفرت نہ بناو" کے جواب میں سنایا تھا۔
عملی زندگی میں ایسے ایک منٹ کے عالموں کی کافی بہتات ہے۔