ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 01/15/10

بوٹیاں نوچنے والے!

بعض معاملات پر جان بوجھ کر چُپ رہا جاتا ہے مگر ایک کنکر بولنے پر مجبور کر دیتا ہے، جن معاملات میں بولنا چاہئے ہم اکثر اس خوف سے کہ سامنے والے کا اختلاف مجھ سے نفرت میں نہ بدل جائے خاموشی اختیار کر لیتا ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ ایسی بعض صورتوں میں خاموشی منافقت کے ذمرے میں آتی ہے، لیکن یہ عمل کئی اعتبار سے بہتر ہے۔
اگر کہنے کو بات نہ ہو تو خاموشی بہتر ہے بجائے اس کے کہ تنگ کرنے کو بات کی جائے، کئی مرتبہ یوں بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنی بات و خیالات میں بہت پختہ ہوتے ہیں یہاں تک کہ کوئی دلیل و مثال بھی ہمیں اُس سے متزلزل نہیں کر سکتی یہاں تک کہ کئی حقیقتیں بھی افسانہ معلوم ہوتی ہیں مگر وجہ فساد وہ تب بنتی ہے جب ہم دوسروں کو قائل کرنے بجائے اُن پر اپنی بات تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رویئے سے جس قدر ممکن ہو اجتناب کرنا چاہئے اس بات کو مد نظر رکھنا چاہئےکہ ممکن ہے جسے ہم افسانہ سمجھ رہے ہیں وہ حقیقت ہو۔ بے موقعہ و بے ربط بات اس کے سوا اور کیا تاثر دے گی کہ ہم اپنی سوچ دوسروں پر مسلط کرنے کے خواہش مند ہیں ،مان جاؤ یا ڈر جاؤ، انتہا پرستی کیا یہ ہی نہیں؟
انتہا پسندی کا یہ رویہ ہم میں سے ہر کسی میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔
بزرگ کہتے ہیں بعض مرتبہ کانوں کا سنا اور آنکھوں کا دیکھا بھی دھوکہ ہو تا ہے۔ مگر رویے یہ بتاتے ہیں کہ یار لوگ پسند کا سنا جھوٹ تو سچ مان لیتے ہیں مگر پرکھے ہوئے سچ کو بھی ناپسندیدگی کی بنا پر رد کر دیتے ہیں۔
اللہ کے بندوں سیاست میں جو کہا جاتا ہے جو کیا نہیں جاتا، جو کیا جاتا ہے بتایا نہیں جاتا، جو مانگنا ہوتا ہے اُسے لینے سے انکار کیا جاتا ہے۔ بوٹیاں نوچنے والے اکثر چھوٹ لگنے کا رونا روتے ہیں، آگ لگانے والے پانی لاؤ کا شور مچاتے ہیں، گولیاں مارنے والے ارے مار دیا کا واویلا مچاتے ہیں، تب اُن کے چاہنے والے انہیں صدیوں میں پیدا ہونے والا مسیح بتاتے ہیں ۔
یہ باتیں کسی کے لئے لکھی ہیں!

ایک اور "الو کے پٹھے" ۔۔۔۔۔۔۔

یہ لیں ایک اور اُلو کے پٹھے اور "سنسر" کہنے والے۔۔ دوسری لسانی جماعت اور ایک سی حرکت