ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 01/09/10

یادش بخیر

یوں تو موڈ تھا آج پھر کچھ سانحہ کراچی پر لکھا جائے، اُن باتوں ، خیالات و تبصروں کو آپ سے شیئر کیا جائے جو اہل سانحہ کے ہیں! (وہ احباب کان کھڑے کر لیں جنھوں نے پہلی والی پوسٹ کے بعد ای میل کی تھیں) مگر گھر واپسی پر اپنے میٹرک کے دوستوں سے ملاقات نے موڈ تبدیل کر دیا!
ماضی کی یاد نے آ پکڑا ہے، ماضی اتنا خوبصورت کی لگتا ہے، تب کی تلخ یادیں بھی میٹھے درد کی طرح ہوتی ہے، جن سے لذت کی ٹیسیں اُٹھتی ہیں۔ وہ اسکول کے دن! زمانہ کتنا بدل گیا ہے۔ چند لمحوں میں ماضی کی مکمل ڈی وی ڈی (کیسٹ کا زمانہ تو گیا ناں) آنکھوں کے سامنے چل جاتی ہے، سالوں کے واقعات سیکنڈوں میں مکمل جزیات کے ساتھ پردہ اسکرین پر نمودار ہو جاتے ہیں! کیا بات ہے۔
چلیں میں آپ سے دو مختلف اپنے واقعات شیئر کرتے ہیں، جن کا بہت خاص تعلق ہمارے آج سے ہے! اول چوری و پہلی گالی کا!
ہم نے پہلی چوری اپنے گھر میں کی تھی! جو آخری ثابت ہوئی۔ معاملہ یہ تھا ہمیں جیب خرچ میں آٹھ آنے ملتے تھے روزانہ یہ تب کی بات ہے جب ہم پانچویں یا چھٹی میں تھے۔ اسکول میں وہ میٹھے بال وہ جو رنگ برنگ ہوتا ہے نہ معلوم کیا نام ہے اُس کا؟ (کیا کوئی بتائے گا) ہم اُسے بابے بڈھے کا بال کہا کرتے تھے! وہ ایک روپے کا ملتا تھا۔ ہم کچھ دن سوچتے کہ رہے کہ کل لے کر کھاؤ گا پھر ایک دن ہم نے اپنی آٹھنی بچائی اگلے دن ملنے والی اٹھنی ملی اور ایک روپیہ ہو گئے صبح یہ سوچ کر خوش ہوئے کہ آج بابے بڈھے کے بال لے کر کھاؤ گا اور آدھی چھٹی میں ہمارے ساتھ ظلم ہو گیا! وہ بندہ ہی نہیں آیا!!!! اور ساری خوشی غارت ہو گئی۔ اور شام تک ایک روپیہ بھی خرچ ہو گیا! اگلے دن وہ بندہ پھر آیا ہم نے اپس سے تصدیق کی کہ بھائی کل آؤ گے تو اُس نے ہاں کی!! شام کو خیال غلط آیا کہ کیوں ناں رات کو برتنوں میں پڑے اُس گلاس سے آٹھنے نکال لئے جائے جن میں پیسے پڑے ہوتے ہیں! رات وہاں سے پیسے نکال کر اپنے اسکول کے کپڑوں کی جیب میں رکھ کر سو نے کے لئے لیٹے تو چوری پکڑی جا چکی تھی! دو تھپڑ پڑے اور ایک ہفتہ کے لئے جیب خرچ بند ہو گیا! وہ الگ بات ہے کہ تمام ہفتہ کے جیب خرچ کی رقم تین روپے ہفتے کے آخر میں اس وعدہ کے ساتھ دے دی گئی کہ آئندہ چوری نہیں کروں گا!! اور مار پڑنے اور جیب خرچ بندہونے کی وجہ سے وہ بابے بڈھے کے بال و چوری دونوں سے نفرت ہو گئی!!!
اس ہی طرح اُن ہی دنوں ایک مرتبہ ہمارے گھر میں محلے کے ایک گھر کے چند افراد آئے تھے اُن کے ساتھ ہماری عمر کا بچہ بھی تھا! ہم اُس کے ساتھ کھیل رہےتھے کسی بات پر ہمارا اُس سے کھیل کے دوران جھگڑا ہو گیا ! ہم نے غصے میں اُسے "خنزیر، اُلو کا پٹھا" کہہ دیا اس سے قبل کے جملہ مزید آگے بڑھتا ایک زنائے دار تھپڑ ہمارے گال پر پڑ گیا! اس سوال کے ساتھ ہم نے یہ الفاظ کہاں سے سیکھے؟ اُس دن کے بعد ہمارے منہ سے کوئی گالی نہیں نکلی! ہاں اب وکالت کی فیلڈ میں انے کے بعد زبان کچھ خراب ہو گئی ہے مگر مجال ہے گھر میں کبھی غلطی سے بھی الفاظ کا چناؤ خراب ہوا ہو!
ہمیں یہ دو نوں قصے ہر بار بچپن کی یادوں کے ساتھ یاد آتے ہیں اول اس لئے کہ یہ ہمارے اول جرم ٹہرے تھے دوئم ان پر تھپڑ پڑے تھے۔
کیا آپ کی کوئی ایسا قصہ ہے؟؟ کیا آپ لکی رہے!