ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 05/02/09

بلوچستان کا خلفشار؟؟؟؟

پچھلے تقریباً ڈیڑھ سال میں بلاچ مری کی ہلاکت سمیت بلوچستان میں کافی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور تین بلوچ قائدین کی حالیہ ہلاکتوں کے بعد حالات مزید خراب ہوئے ہیں ۔ میرے ایک گزشتہ کالم سے کچھ اقتباسات ملاحظہ ہوں ۔
خطے کے چند صحافیوں جن کا تعلق اشک آبا ماسکو زہدان‘ قند ھار اور کوئٹہ سے ہے نے سابقہ سویٹ یونین کے دو سابقہ کے جی بی کے افسروں سے ملکر اس چیز کا سراغ لگا نے کی کوشش کی ہے کہ بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی رپورٹ جو سات ہفتوں میں تیار ہوئی اور 13صفحوں پر مشتمل ہے انٹر نیٹ پر اس موضوع سے موجود ہے۔ " The stunning investigation story on Birth of Balochistan Liberation Army"  اس رپورٹ میں زیادہ تر مواد KGB کے دو افسروں جو آجکل ماسکو میں retired زندگی گزار رہے ہیں اور سویٹ یونین کے افغانستان پر حملے اور قبضے کے ایام میں اس خطے میں موجود تھے سے انٹر ویو کرکے حاصل کیا گیا۔ اس رپورٹ کا مختصر خلاصہ قارئین کے پیش خدمت ہے۔ سویت یونین نے جب افغانستان پر یلغار کی تو پاکستان اور اسکے اتحادیوں کی طرف سے موثر دفاعی حکمت عملی نے اس سپر طاقت کو حیران کر دیا ۔ سویت KGBنے اس وقت بھی یعنی 1983-82ء میں پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کر نے کیلئے بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کی بنیاد رکھی تھی جس میں بنیادی طور پر کچھ بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن (BSO) کے لوگ استعمال ہوئے BLA سویت یونین کے افغانستان سے نکلنے کے بعد غائب ہوگئی لیکن 9/11 کے بعد جب روس اور امریکہ نے بلوچستان میں ایک دوسرے سے تعاون پر رضا مندی ظاہر کی تو جنوری 2002ء میں بلوچستان میں پہلا ٹریننگ کیمپ قائم ہو گیا۔
اس گروپ میں دو ہندوستانی اور دو امریکن تھے جن کے پاس ایک بھورے رنگ کی ٹو یوٹا ہائی لکس ڈبل کیبن تھی جس کو افغان ڈرائیور چلا تے ہوئے رشید قلعہ کے مقام سے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے اور پھر مسلم باغ سے ہوتے ہوئے 17جنوری کو کولہو پہنچے وہاں سے دو ہندوستانی اور دو امریکن ڈیرہ بگٹی گئے اور پھر کچھ دنوں کے بعد واپس کو لہو آگئے ۔رپورٹ کیمطابق بلاچ مری جو کہ نواب خیر بخش مری کا بیٹا ہے اور جس نے ماسکو سے الیکٹرونک انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے کا اس گروپ سے رابطہ تھا چونکہ کولہو اور کوہان کے درمیان پہاڑیاں مری قبائل کی ہیں اور بلاچ مری کے ہندوستان اور روس سے رابطے ہیں اسلئے اسکو رپورٹ کیمطابق BLA کا سر براہ مقرر کیا گیاتھا۔ اس کیمپ میں تقریبا ً بیس نوجوانوں کو جن مضامین پر ٹریننگ دی گئی اس میں بلو چستان کا تصور ‘ سیاسی جدو جہد کیلئے تخریب کاری کا استعمال پنجاب کی زیادتیا ں اور اجتما عی احتجاج کے مختلف طریقے شامل تھے۔ کے ۔جی ۔ بی کے آفیسر ز کی رپورٹ کیمطابق انکے پاس ہر طرح کی تربیت کیلئے مواد موجود رہتا ہے ۔ ساتھ ہی افغانستان سے اسلحہ اور گو لہ بارو د آنا شروع ہو اسکے علاوہ گولہ بارود کی سپلائی کا دوسرا راستہ کشن گڑھ جو بلوچستان اور سندھ کے ملاپ پر پاکستان ہندوستان کے بارڈر سے صرف 5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہندوستان میں واقعہ ہے ۔ وہاں سپلائی ڈپو اور ٹریننگ کیمپ کیساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ اسکے علاوہ ہندوستان کا شیر شاہ گڑھ جو کہ کشن گڑھ سے تقریباً 90 کلو میٹر دور ہے سے بھی ہندوستانی سپلائیز اور ماہرین کیساتھ رابطہ رہتا ہے۔ اسلحہ اور گولہ بارود کشن گڑھ اور شاہ گڑھ سے اونٹوں پرپاکستان لایا جا تا ہے اور وہاں سے ٹرکوں کے اندر دوسرے عام ضرورت کے سامان کے نیچے ڈال کر اور اوپر تر پال دے کر سوئی اور کوہلو پہنچا یا جاتا ہے ۔ گولہ بارود زیادہ تر روسی ساخت کا ہو تا ہے اس راستے سے کشمور‘ اوچ ‘ ملتا ن اور سوئی۔
سکھر والی پاکستانی گیس پائپ لائین کو بھی نقصان پہنچا یا جا سکتا ہے۔ اس علاقے میں تخریبی کاروائی کی ٹریننگ ہندوستان کی ایجنسی کی ذمہ داری ہے BLAکو قائم کر نے کیلئے (RAW) کی مدد بہت مفید ثابت ہوئی کیونکہ (RAW) کے بہت سے رابطے بلوچستان میں ہیں اس وقت بلوچستان میں 45سے 55ٹریننگ کیمپ ہیں ۔ ہر کیمپ میں 300سے 550 تخریب کار موجود ہیں ۔ KGB کے آفیسر نے بتا یا :

"A massive amount of cash is flowing into these camps from Afghanistan through U.S. Defence contractors (Pantagon Operatives in civvies), CIA foot soldiers, (instigators in double guise), fortune hunters, rehired ex soldiers and free lancers."

ان پیسوں سے دالبندین ‘ نوشکی ‘ کوہلو ‘ سبی ‘ خضدار اور ڈیرہ بگٹی میں نئے گھر بنا ئے گئے ہیں۔ ہندوستانی قونصلیٹ نے ایران کے شہر زاہد ان میں واقع ہو ٹل امین کے پاس گھر کر ائے پر لیا ہو ا ہے ۔ یہ گھر لوگوں کے افغانستان سے پاکستان اور پاکستان سے ایران آنے جانے کیلئے استعمال ہو تا ہے۔ انٹر نیٹ پر دی گئی اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بلوچستان کے اندر تخریب کاری میں ملوث ہندوستانی ‘ افغانی اور ایرانی باشندوں کی انکی اپنی حکومتوں سے وابستگی کی بات تو شائد و ثوق سے نہیں کہی جا سکتی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکنوں اور روسیوں کو پینٹا گان اور کریملین کی آشیرباد حاصل ہے کے جی بی کے افسروں کیساتھ انٹر ویو کے دوران مختصر ً ایہ واضح ہو ا ہے کہ سوویت یونین کی افغانستان میں آمد کا بڑا مقصد براستہ بلوچستان سمندر کے گرم پانی تک رسائی تھا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے وہ عظیم بلو چستان بنا نا چاہتے تھے۔  BLA  کو اب دوبارہ زندہ کر نے کی ذمہ داری پینٹا گان اور کریملین پر ہے جس کیلئے ان کو RAW  کی مدد حاصل ہے۔ امریکن روسیوں پر پورا اعتماد نہیں کر رہے۔ KGB  کے افسروں سے جب یہ پوچھا گیا کہ امریکہ اپنے Front line ally پاکستان کیلئے مصائب کیوں کھڑے کر یگا اس پر KGB  کے افسروں کا جواب یہ تھا :۔
ـ ’’صف اول کا اتحادی؟ آپ مذاق تو نہیں کر رہے ؟ امریکہ پاکستان کو صرف استعمال کر رہا ہے اور پاکستانیوں کو ابھی تک اگر یہ چیز سمجھ نہیں آئی تو جلد آ جائیگی۔ اگر امریکہ کا اس خطے میں کوئی موذوں اتحادی ہے تو وہ ایک مختلف حکومت کے نیچے ایران ہے اور امریکن اس مقصد یعنی ایران میں (Regime Change) کیلئے کام کر رہے ہیں ۔ بلوچستان کے علاوہ باقی پاکستان امریکنوں اور اسکے اتحادیوں کیلئے بے فائدہ ہے۔ KGB کے افسر نے کہا کہ اس علاقے میں امریکہ کے دو مقاصد ہیں ایک وسط ایشیاء سے توانا ئی کا حصول اور دوسرا چین کیخلاف گھیرا تنگ کر نا۔ اس مقصد کیلئے بلوچستان اور اسکی گوادر اور پسنی کی بندر گاہیں اہمیت کی حامل ہیں
کے جی بی کے افسروں کے ساتھ انٹر ویو کے دوران مختصر ً ایہ واضح ہو ا ہے کہ سوویت یونین کی افغانستان میں آمد کا بڑا مقصد براستہ بلوچستان سمندر کے گرم پانی تک رسائی تھا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے وہ عظیم بلو چستان بنا نا چاہتے تھے۔ BLAکو اب دوبارہ زندہ کر نے کی ذمہ داری پینٹا گان اورکریملین پر ہے جس کیلئے ان کو RAWکی مدد حاصل ہے۔ امریکن روسیوں پرپورا اعتماد نہیں کر رہے۔ KGBکے افسروں سے جب یہ پوچھا گیا کہ امریکہ اپنے Front line ally پاکستان کیلئے مصائب کیوں کھڑے کر یگا اس پر KGBکے افسروں کا جواب یہ تھا :۔
۔ “صف اول کا اتحادی؟……. آپ مذاق تو نہیں کر رہے ؟ امریکہ پاکستان کو صرف استعمال کر رہا ہے اور پاکستانیوں کو ابھی تک اگر یہ چیز سمجھ نہیں آئی تو جلد آ جائیگی۔ اگر امریکہ کا اس خطے میں کوئی موذوں اتحادی ہے تو وہ ایک مختلف
حکومت کے نیچے ایران ہے اور امریکن اس مقصد یعنی ایران میں (Regime Change) کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ بلوچستان کے علاوہ باقی پاکستان امریکنوں اور اسکے اتحادیوں کے لیے بے فائدہ ہے
KGBکے افسر نے کہا کہ اس علاقے میں امریکہ کے دو مقاصد ہیں ایک وسط ایشیاء سے توانا ئی کا حصول اور دوسرا چین کے خلاف گھیرا تنگ کر نا۔ اس مقصد کیلئے بلوچستان اور اس کی گوادر اور پسنی کی بندر گاہیں اہمیت کی حامل ہیں۔ امریکن جنوبی ایشیاء کی معیشت اور وسط ایشیا کی توانا ئی کو خود استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے امریکہ چین کو بلوچستان سے دور رکھنا چاہتا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ بلوچستان میں تخریب کاری موجود رہے تا کہ وسط ایشیاء کا تیل اور گیس اس راستے سے دنیا میں تقسیم ہو نا شروع نہ ہو جائیں جو پہلے صرف روس کے ذریعے باہر دنیا کو جا سکتا ہے اس لئے روس اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اسکے علاوہ ہندوستان نہیں چا ہتا کہ پاکستان وسط ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ بلاواسطہ تجارتی راستہ کھول لے انکی دلچسپی یہ بھی ہے کہ انکی ایران کے گیس کے ذخائر تک رسائی ہو خواہ اس کیلئے پاکستان کا علاقہ ہی کیوں نہ استعمال کر نا پڑے ۔ اسکے علاوہ ہندوستان افغانستان پر اپنا اثرورسوخ اس لئے بڑھا رہا ہے تا کہ وہ وسط ایشیا ء کی تیل سے مالا مال ریاستوں کیساتھ براہ راست رابطے میں ہو ۔ ایران نے اپنی چاہ بہار بند گاہ اور اس سے منسلک سٹرکیں اور ریلوے لائن پر بہت رقم خرچ کی ہے۔ ایران کو یہ ڈر ہے کہ بلوچستان میں امن ہو نے اور گوادر کی بند گاہ کھلنے سے چاہ بہار کی اہمیت کم ہو جا ئے گی چونکہ وسط ایشیاء کی ریاستوں سے گوادر کے ذریعے سمندر تک پہنچنا زیادہ مفید ہو گا اسکے علاوہ KGBکے آفیسر نے کہا کہ ایران اپنے و عدوں کی پاسداری میں بھی کمزور ہے۔ مجھے یہ افسوس سے کہنا پڑرہا ہے لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے اسکے اندر بہت سے طاقت کے دائرے ہیںجن میں سے کچھ پاکستان کے حق میں ہیں لیکن کچھ موقع ملنے پر پاکستان کو نقصان پہنچا نے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ہندوستان ایران اور افغانستان کے کچھ نمائندوں نے اپنا ایک معاشی تجارتی اور مواصلا تی اتحاد بنا یا ہو ا ہے جس میں سے پاکستان کو باہر رکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلو چستان کے اندر BLAکے علاوہ بلو چ اتحاد پونم اور کچھ چھوٹے گروپ بھی سر گرم عمل ہیں لیکن یہ سارے گروپ اور بلوچی سر دار بلوچستان کی عوام کے خیر خواہ بالکل نہیں ۔ سر دار مہر اللہ مری نے 1885ء میں خاطان کے علاقے کے پٹرولیم سے متعلق حقو ق حکومت بر طانیہ کو صرف 200روپے ما ہا نہ پر بیچ دئیے ۔ 1861ء میں جام آف لسبیلہ نے برطانوی حکومت سے صرف 900روپے ما ہوار لیکر ٹیلی گراف لائن لگانے کی اجازت دے دی ۔ 1883ء میں خان آف قلات نے کوئٹہ کا ضلع اور اس سے ملحقہ علاقہ برطا نیہ کو صرف25ہزار روپے میں فروخت کر دیا ۔اسی سال بگٹی سر داروں کو بر طانوی حکومت نے 5500روپے ادا کر کے کچھ فوائد حاصل کئے رپورٹ میں کہا گیا ہے

Any positive development would go against the Sardars and any fool would expect them to do any thing for the good of their people.” ”

موجو دہ حالات میں اگر صحیح اقدام نہ اٹھائے گئے تو پاکستان کی سا لمیت خطرے میں پڑ جائیگی KGBکے افسر نے کہا ابھی تک میں نے کوئی ایسی پاکستانی کوشش نہیں دیکھی جس کا مد عا عام بلوچیوں سے رابطے بڑھا نا ہوا بھی بھی حکومت صرف
سرداروں کو خوش کر نے میں لگی ہوئی ہے جو پاکستان بننے سے اب تک بلیک میلنگ میں مصروف رہے ہیں ۔ پا کستان جس طریقے سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس سے حیرانی ہو تی ہے۔ KGBکے آفیسر نے کہا کہ میں جب چند سال افغانستان میں رہا تو میں نے یہ دیکھا کہ جہان بلوچ سر دار پیسے لیکر اپنی وفا داریاں بیچ دیتے تھے وہاں عام بلوچی بے وقوفی کی حد تک محب وطن تھا انکو خریدنا اور اپنے لئے استعمال کرنا نہایت مشکل تھا اگر میراتعلق پاکستانی حکومت سے ہوتا تو میں عام تعلیم یا فتہ بلوچوں کو اکٹھا کر کے سر دااروں کا اثر ور سوخ ختم کر دیتا ۔ ایک سوال کے جواب میں رپورٹ میں کہا گیا ہے۔ کہ روس و افغا ن جنگ میں BLAکی قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں تھی لیکن اب یہ قیادت سر داروں کے ہاتھ میں ہے۔ موجود ہ قیادت میڈیا کو استعمال کر نا چاہتی ہے اس لئے انہوں نے سوئی گینگ ریپ کیس کی با ت شروع کی حکومت پاکستان کو چاہئے تھا کہ اس جرم میں ملوث افراد کو لٹکا دیتی تو BLAکی مہم بیٹھ جا تی ۔ موجود حالات میں حکومت پاکستان کیلئے بہترین حکمت عملی یہ ہو گی کہ سر داری نظام کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور پرائیویٹ ARMIESتوڑ دی جائیں۔ عام بلو چیوں سے رابطے قائم کئے جائیں جن میں مری اور مینگل کے قبائل بھی شامل ہوں علاقہ بدر کئے ہوئے بگٹی قبیلے کے لوگوں کو بھی واپس بلایا جائے ‘ تر قیاتی منصوبوں پر کام تیز کر کے روز گار کے ذرائع بڑھائے جائیں اور ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جس سے تخریب کاروں کو پیسہ اور اسلحہ نہ پہنچ سکے ۔ اس سے حالات پر قابو پا یا جا سکتا ہے ۔ ۔۔ ”
قارئین پاکستان کے مفادات کیخلاف کام کر نے والوں کی طرف سے بلوچ قوم اور عام بلوچیوں کی حب الوطنی کو سلام پیش کر نا کوئی چھوٹی بات نہیں۔KGBکے جاسوسوں کی طرف سے یہ کہنا کہ:

“Ordinary Baloch are stupidly patriotic. They are hard to buy and harder to manipulate”

۔بلوچ قوم کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے جو پوری پاکستانی قوم کے لیے قابل فخر ہے۔

تحریر ؛ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم

اپڈیٹ: جس رپورٹ کا زکر ہے اُسے اپ یہاں پڑھ سکتے ہیں!

دل دریا

لوگوں نے کہا
اس در سے کبھی
کوئی نا اُمید نہیں لوٹا
کوئی خالی ہاتھ نہیں آیا
میں بھی لوگوں کے ساتھ چلا
چہرے پر گرد مِلال لیے
اک پر امید خیال لیے
جب  قافلہ اس در پر پہنچا
میں اس گھر کو پہچان گیا
پھر خالی ہاتھ ہی لوٹ آیا
اس در  سے مجھے کیا ملناتھا
وہ گھر تو میرا اپنا تھا

شاعر: سرشار صدیقی