ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 04/20/09

نذیر نا (نہ) جی؟؟ کون سے ہیں حاجی

کر لو گل! آج پی کے پولیٹکسنے احمد نورانی جو دی نیوز سے منسلک ہے کے حوالے قریب کُل بائیس منٹ پر مشتمل تین مختلف ٹیلی فون کال اپنے بلاگ پر پوسٹ کی ہے، جس کے ساتھ احمد نورانی کی ای میل بھی ہے جس میں یہ دعوٰی ہے کہ جناب نے نذیر ناجی کو اسلام آباد میں غیرقانونی پلاٹ کی منتقلی سے متعلق پوچھنے کے لئے فون کیا! اور پہلی کال کے جو کہ جمعہ سترہ اپریل کو کی گئی تھی کے جواب میں نذیز صاحب نے دو مختلف  کال کر کے احمد نورانی صاحب کو وہ وہ سنائی ہیں جو نہ تو (یہاں) بیان کی جا سکتی ہیں نہ ہے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اسے سنے!! دھمکی بھی دی!
احمد نورانی کی اسلام اباد میں پلاٹ الاٹمنٹ پر ایک رپورٹ “دی نیوز“ میں اُس ہی تاریخ (یعنی سترہ اپریل ہی)  کو شائع ہوئی تھی۔
اچھا اگر آپ ٹیپ کی ریکارڈنگ سنے تو آ پ نذیر ناجی انصار عباسی کو بھی گالیاں دیتے سنائی دے گے ایسے میں انصار عباسی کے پلاٹ واپس کرنے کے معاملے اور آج کے کالم کی وجہ بھی سمجھی جا سکتی ہے!!!
نذیر ناجی کوئی حاجی نہیں! اُنہیں پہلے ہی کئی لوگ صحافت کا میر جعفر کہتے ہیں اوراس ریکارڈنگ کے اصلی ہونے کی کوئی گارنٹی بھی نہیں مگر اگر یہ اصلی ہے تو یہ ایک ثبوت ہے کہ صحافت کے مائی باپ کہلانے والے بھی دراصل زیر اثر ہیں لفافہ کلچر کے اور ہونے والی گفتگو بھی بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے! میں یہاں ٹیپ پوسٹ کر رہا ہوں!

پہلی کال!

دوسری کال

تیسری کال