ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 03/20/09

کہیں احساس نہ ہو جائے

آج کل مجھے کچھ اس قسم کے مکالموں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے!
“وکیل صاحب مبارک ہو آپ کا چیف جسٹس بحال ہو گیا ہے“
میں؛ “ خیر مبارک میرا نہیں جناب پورے پاکستان کا چیف جسٹس بحال ہوا ہے“
“جی جی، بڑی ہمت کی آپ وکیلوں نے دو سال تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھا“
میں؛ “جناب یہ میرے جیسوں کی تو خیر کیا ہمت ہو گی مجھ پر تو کوئی زمہ داری ابھی نہیں البتہ وہ احباب جن پر گھریلوں ذمہ داریاں ہیں مگر انہوں نے اس تحریک کے لئے خود کو وقف کردیا قابل ستائش ہیں“
“مگر ایک بات ہے کہ اگر امریکہ و کیانی اسٹینڈ نہ لیتے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ “چوہدری افتخار“ بحال ہو جاتا! بھائی یہ زرداری تو اب بھی چیف کی بحالی کے حق میں نہیں ہے!“
یہ اخری جملہ گفتگو میں کہیں نا کہیں کسی ناں کسی شکل میں آ جاتا ہے! جس میں کہنے والا یہ باور کرتا و کراتا ہے کہ عدلیہ کا “افتحار“ دراصل بیرونی قوتوں خاص کر امریکہ و فوج کی مہربانی سے ہوا ہے۔
گزشتہ دو سال سے امریکہ نے آزاد عدلیہ کی بحالی کے سلسلے میں کسی بھی موقع پر کوئی کردار ادا نہیں کیا! البتہ ایک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں آزاد عدلیہ خود امریکی مفادات کے خلاف ہے! لاپتہ افراد والے کیس سے نام نہاد دہشت گردی کی جنگ تک درست معنوں میں ایک آزاد عدلیہ امریکی خواہشات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی!
خود پاکستانی ایجنسیاں بھی آزاد عدلیہ سے خوف زدہ ہیں! ٩ مارچ کے اقدامات پر اُس وقت کی ایجنسیوں نے سُکھ کا سانس لیا تھا!
سنا ہے کامران خان نے جیو پر سب سے پہلے یہ کہنا شروع یہ کہ عدلیہ کی بحالی میں فوج و امریکہ نے اپنا کردار ادا کیا ہے! میری رائے میں ایسی تشہیر اس بناء پر کی جارہی کہ کہیں عوام کو یہ احساس نہ ہو جائے کہ ان ججوں کی تعیناتی خود “عوام“ نے کی ہی وجہ صاف ہے اگر انہیں اپنی طاقت یہ احساس ہو گیا تو یہ اپنی ہر بات منوانے لگ جائے گے! جب ایک چیف جسٹس کو اپنی اصل طاقت کا احساس ہوا تو وہ گلےمیں آ گیا اب اگر عوام کو سمجھ لگ گئی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔