ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 12/27/06

مکالمہ

“ارے کچھ سنا! قائد کے مزار پر خواتین کیڈٹس گارڈ رکھی گئی ہیں“
“ہاں بھائی! چلو اچھا ہے“
“مگر میں اسے دوسری طرح دیکھتا ہوں“
“کس طرح؟“
“تم نے دیکھا ہو گا جب کبھی بل وغیرہ جمع کروانے کی قطار لگی ہو تو کچھ مرد حضرات یہ دیکھ کر کہ مردوں کی قطار لمبی اور خواتین کی قطار چھوٹی ہے تو گھر سہ اپنی ماں یا بہن یا بیوی یا بیٹی کو اس بنا پر کہ جلدی فارغ ہو جائیں گے لے آتے ہیں! جب وہ عورتوں کی قطار میں لگ کر بل جمع کروا رہی ہوتی ہیں تو یہ صاحب کسی دیوار کی چھاؤں میں کھڑے ہو کر یا تو سیگریٹ کے کش لگا رہے ہوتے ہیںیا کسی سے گپ“
“بات کچھ پلے نہیں پڑی!! کیا کہنا چاہ رہے ہو“
“بھائی وہ اپنے آرام کے لئے عورتوں کو گھر سے نکالتے ہیں یہاں بھی خود کو لبرل و روشن خیال ظاہر کرنے کے لئے عورت کو استعمال کیا جا رہا ہے“
“کیا بکواس ہے!! تم لوگ کیسی کیسی باتیں سوچتے رہتے ہو“