ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 11/06/06

آنکھوں کا تارا

اس کی دہائی میں ایک شخض پورے مغرب اور امریکہ کی آنکھوں کا تارا تھا۔ وہ ایک ایسے ملک کا سربراہ تھا جس کے ساتھ وہ گزشتتہ تین دہائیوں سے سرد جنگ لڑ رہے تھے۔ اس ملک کے نظام کو وہ لوگ مغرب کے لائف سٹائل کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ تصور کرتے تھے۔
ہالی ووڈ ان کے بارے میں جیمز بانڈ فلمیں بنا کر ڈائجسٹوں میں لطیفے چھپوا کر اور آزادی رائے اور اظہار پر پابندی کی کہانیاں بیان کرکے اس ملک کو پوری دنیا میں بدنام کیا گیا۔ یہ ملک دوسری بڑی عالمی طاقت تھا اور دنیا بھر میں کیمونسٹ تحریکوں کا سرپرست جسے لوگ عرف عام میں سوویت یونین کہا کرتے تھے۔ اس ملک پر مارچ 1985 میں مغرب کا یاک منظور نظر برسر اقتدار آ گیا۔ گورباچوف جو 1931 میں ایک کسان کے گھر میں پیدا ہوا۔ اس کے آباؤاجداد امیر زمیندار تھے لیکن کیمونسٹ انقلاب کے بعد عام انسانوں کی صف میں آ کھڑے ہوئے۔ گورباچوف زندگی بھر مزدور رہنما اور کیمونسٹ خیالات کی ترویج اور سیاسی سرگرمیوں میں مگن رہا۔ اکیس سال کی عمر سے لیکر ملک کا سربراہ بننے تک اس کی زندگی سیاسی زمینے چڑھتی نظر آتی ہے، اس دوران اس نے مغرب کے بے شمار دورے کئے اور ان حکمرانوں سے اس کے تعلقات دوستانہ سطح پر آ گئے۔
لیکن اس آنکھوں کے تارے کے کے اقتدار میں آنے کی کہانی کا پندرہ سال پہلے آغاز ہوتا ہے۔ 1970 سے لیکر 1985 تک امریکی سی آئی اے ہر چھ ماہ بعد ایک معاشی سروے جاری کرتی جس میں سوویت معیشت کو تباہ حال، اس کے حکمرانوں کی کریشن اور اس کے معاشرے کی بد حالی کا تذکرہ ہوتا اور پھر یہ رپوٹیں کھی کسی تجزیہ کار اور کبھی کسی دوسرے کے نام سے دنیا بھر کے اخباروں، رسالوں اور ٹی وی چینلوں پر جاری ہو جاتیں۔ یہ تمام رپوٹیں جو ایک خاص مقصد سے مرتب ہوتی تھیں اور آج ان “کلاسیفائیڈ“ مواد کے طور پر میسر ہیں۔ یہ سب اس زمانے میں کیا جارہا تھا جب روس ایک عالمی طاقت کی حیثیت رکھتا تھا۔
لیکن 1985 میں گورباچوف کے برسراقتدار آتے ہی ان سب لکھنے والوں کے انداز تحریر ایسے بدلے کہ اس روس کو ابھرتی ہوئی مضبوط معیشتوں میں شمار کیا جانے لگا۔ اس معیشت کو روشن اور مستحکم اور عوامی فلاح سے مزین کیا جاتا تھا۔ جب اس طرح دادو تحسین کے ڈونگرے برسائے جارہے تھے اس وقت امریکہ اور مغرب کا یہ منظور نظر اپنے مضبوط اور مستحکم ملک کے ساتھ ایک اور کھیل کھیل رہا تھا۔ برسراقتدار آتے ہی اس نے کہا کہ میں اس جامد اور غیر متحرک معیشت کو مضبوط بناؤں گا اور اس نے ملک کی 75 سالہ تاریخ میں نیا نعرہ دہا “پیراسڑائیکا“ میڈیا کو آزادی دی تاکہ لوگوں کا غبار نکلے۔ ایک ایسے طنقے کو جنم دیا جس کے کاروبار، گاڑیوں اور تعیش کو دیکھ کر لوگوں کو غصہ آنے لگا۔ مغرب ان تمام تبدیلیوں کو خوش آمدید کہہ رہا تھا۔
امریکی صدر رونالڈریکن نے کہا وہ میرا بھائی ہے۔ برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر نے کہا میں اس سی متاثر ہوں، جرمنی کے بلمٹ کوبل نے اسے اپنا محسن قراردیا اور یوں اس معیشت سے نکل کر سیاسی تبدیلیوں کا نعرہ بلند کیا اور اسے گلاس نوسٹ کا نام دیا۔ اس نے اپنے تمام محاذوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا جو مغرب کے ساتھ سالوں سے موجود تھے۔ اسے موجودہ تاریخ کا اسب سے بڑا یو ٹرن کہا جاتا ہے۔
1988 میں اسے ٹائم میگزین کے کور پر مین آف دی ایئر کا اعزاز ملا لیکن اس وقت جب اس کی معاشی اور سیاسی پالیسیوں کی دھوم دنیا بھر میں مچی ہوئی تھی۔ روس کا خسارہ صفر سے 109 بلین روبل، سونے کے ذخائر2000 ٹن سے دوسو ٹن اور بیرونی قرضے صفر سے 120 بلین ڈالر تک پہنچ گئے۔ صرف پانچ سالوں میں خودکفیل روس چینی کے سب سے بڑے بحران کا شکار ہوا اور پھر گوشت اور روٹی یعنی گندم بھی لوگوں کی دسترس سے دور ہو گئی۔  یوٹیلیٹی سٹوروں کی طرح ذرا سستے سٹور بنائے گئے لیکن آخر بات جنگ کے زمانے کی طرح راشن کاڈو پر آ پہنچی اور لوگ لمبی لمبی لائنوں میں لگ کر خوراک حاصل کرنے لگے۔
ادھر اسی مغرب کے ممالک جن کی آنکھوں کا وہ تارا تھا اس کے ملک میں علیحدگی کی تحریکوں کی حمایت کرنے لگے۔ بھوک، افلاس اور غربت نے حکومت کا اعتماد ختم کردیا اور سیاسی بد امنی علیحدگی کو ہوا دی۔ اس کا پیراسٹرائیکا اور گلاس نوسٹ کسی کو تو متحد نہ کرسکا یہاں تک کہ ایک ایک کر کے سب علیحدہ ہوتے گئے اور جب آخر میں بالٹک ریاستوں کو اس نے زبردستی اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کی تو پورا مغرب جو اس کا حلیف تھا اس کے مدمقابل آ کھڑا ہوا۔
صرف سات سال کے عرصے میں ایک عالمی طاقت ستر سال سے مغرب کا سب سے بڑا دشمن سوویت روس بدنام ترین شکستوں ذہنوں اور رسوائیوں کے ساتھ بکھر گیا۔
حیرت ہے کہ جب وہ اپنی کتاب پیراسٹرائیکا شائع کر رہا تھا تو پوری مغربی دنیا اسی ترجمہ کر رہی تھی خرید رہی تھی۔ اسے عالمی خبروں کا موضوع بنایا ہواتھا۔ اسے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا اور آج نہ اس کا ذکر کئی ملتا ہے اورع نہ اس کی کتابیں کسی بک اسٹال پر میسر ہیں البتہ کسی ریسرچ میگزین میں کوئی تحقیقی رپورٹ آجاتی ہے کہ سی آئی اے نے کتنی محنت کے ساتھ ایک شخض کو تیار کیا اسے اپنے ہی اندر ایک سپر مین کا غرور دیا، اسے غلط تبصروں سے گمراہ کیا اور اس کو ایسے خیالات دیئے جو ملک توڑ سکتے تھے لیکن وہ اسے نیک نیتی کے ساتھ ملکی مفاد میں نافذ کرتا گیا۔ سی آئی اے کا یہ اتنا بڑا اور کامیاب تجربہ ہے جس کی گونج بھی اگر کسی ملک میں سنائی دے یا تاثر بھی ملے تو اس ملک سے محبت کرنے والے گھبرا جاتے، ڈر جاتے ہیں، انہیں خوف سے راتوں کو نیند نہیں آتی۔


تحریر؛ اوریا مقبول جان