ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 07/28/06

تیرے آنسو

موتی سے بھی قیمتی ہوتے تیرے آنسو
جو میرے دامن میں گرتے تیرے آنسو

میرے خوابوں کو آنکھوں میں بسا لیتی جو تو
زمانے کی آنکھوں میں پھرتے تیرے آنسو

ان کو دنیا کی آنکھوں سے بچا کر رکھنا
کہیں کوئی چرا کے نہ لے جائے تیرے آنسو

اِسی کو شاید اُجلا جل کہتے ہیں لوگ
جب اُس جل میں ہیں ملتے ہیں تیرے آنسو

جو لوگ مےکشی میں بھی خدا کو پا گئے
ان کے پیمانوں  میں ہم نے دیکھے ہیں تیرے آنسو

ان موتیوں کا جگ میں کوئی دام نہ ہوتا
جو سیپ کے منہ میں جا گرتے تیرے انسو

سرد موسم کی بارش کی تپتی بوندو سے
ہم کو جلنے سے ہیں بچاتے تیرے آنسو