ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 06/01/06

امتحان!!!! یا ۔۔

آج کل کراچی میں کافی گرمی ہے! ساتھ میں بجلی بھی کا تسلسل کے ساتھ جا رہی ہے !!!! کہاں ؟؟؟ یہ معلوم کروانا پڑے گا۔۔۔ خیر کراچی میں تو نہیں ہے۔۔بجلی!
گرمی!!! اس سے متعلق میں نے دوست سے پوچھا کہ “یار یہ گرمی اتنی کیوں ہو گئی ہے“
جواب آیا “ بھائی یہ تو تم جیسے لوگوں کی حرکتوں کی وجہ سے عذاب نازل ہو رہا ہے نیک لوگوں کو کہاں گرمی لگ رہی ہے“
میں نے پوچھا “ سرکار آپ کو گرمی لگ رہی ہے کہ نہیں“
کہنے لگے ہا“ں لگ رہی ہے“
عرض کیا “ آپ کے کرتوت بھی اچھے نہیں ہیں پھر تو“
فرمانے لگے “ اللہ نیک لوگوں کا امتحان بھی لیتا ہے

کش لگاؤ

تمباکو نوشی ایک عادت جو شغل سے جنم لیتی ہے اسٹائل سمجھی جاتی ہے۔۔۔ کہتے ہیں “چھٹتی نہیں یہ کافر منہ کو لگی ہوئی“ اب یہ کافر ہے یا مسلم اس کا تو مجھے علم نہیں !!! البتہ یہ دیکھا ہے کہ جن احباب کو اس کی عادت پڑھ جائے ان کے لئے اسے چھوڑنا مشکل ہوتا ہے۔۔۔۔۔ کئی کے لئے اتنا بھی مشکل نہیں ہوتا لہذا وہ اکثر سگریٹ نوشی سے توبہ کر لیتے ہیں اور ایسا ہر ایک دو ماہ بعد کرتے ہیں۔۔سیگریٹ پینے سے بھائی چارہ بھی فروغ پاتا ہے، آپ کے پاس سیگریٹ تو ہے مگر ماچس نہیں تو آس پاس موجود افراد مانگ لیا جاتا ہے یوں دعا سلام ہو جاتی ہے مگر اُس کے پاس نہ ہو یا وہ چارہ (گھاس) نہ ڈالے تو ماچس کا طالب دل میں کیا کہتا ہے اسے ہم سنسر کرتے ہیں۔۔ پان کھانے کی عادت بھی کافی احباب کو ہے! اس عادت کا کوئی فائدہ کھانے والے کو ہے یا نہیں مگر اکثر کھانے والے کا ساتھ رہنے والے کو ضرور ہوتا ہے کہ کھانے والے کا منہ جب اس سے بھر جاتا ہے لہذا وہ آپ کا سر نہیں کھاتا!!! یہ ہی حساب گھٹکے کا ہے!!! نسوار کا کیا کہنا ہے بھائی ! واہ۔۔۔۔ کسی خان صاحب سے پوچھے تو وہ ہی بتائے گے !!!! مگر خبردار جو کسی گدھے یا گھوڑے کی خاص شے سے ملایا!!!! کہتے ہیں پاکستان میں ہر روز قریب بارہ سو افراد اس شغل میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایک لاکھ افراد ہر سال پاکستان میں اس شوق کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے اس دنیا میں نہیں رہتے۔ ہر سال کہتے ہیں کہ چھ ٹریلین سیگریٹ تیار ہوتے ہیں قریب 1.3 بلین افراد انہیں پی پی کر ختم کرنے پر مامور ہیں، جن میں سے قریب دس ہزار روزانہ اور 3.7 ملین ہر سال اس کی وجہ سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ دنیا کے 47 فیصد مرد اور بارہ فیصد عورتیں اس عادت کو اپنائے ہوئے ہیں۔ ان میں اکثریت ترقی پذیر ممالک کی عوام ہے۔۔۔۔کینسر کی بیماری سے مرنے والوں میں 30 فیصد تمباکو کی وجہ سے اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ آج دنیا میں تماکو سے پرہیز کا دن منایا جا رہا ہے !!! دنیا کے پنڈتوں نے 31 مئی کو اس کام کے لئے چنا ہے۔