ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 03/12/06

آپ قانون شکن ہیں تو آپ کو قانون شکنی کی سزا ملنی چاہئے، ایسے میں ماتھے پر شکن لانا درست نہیں ،اس میں کوئی شک شبہ نہیں!۔ قانون شکنی کا کوئی جواز نہیں ہوتا! سچ ہے۔ مگر!!! قانون بنانے اور اس کے نفاذ کے چند طریقے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ کہ نہیں؟؟؟ بہار آئی! لاہوری بسنت منانا چاہتے تھے! حکومت (پنجاب) مان گئی! سپریم کورٹ کو منانے جاپہنچی! جو رام ہو گئی لہذا جس پتنگ باری کو حرام قرار دے چکی تھی کہ اس کی وجہ (وہ کوئی بھی ہو) سے کئی لوگ جان کی بازی ہار گئے، اسے چند دن کے لئے حلال قرار دیا، لو اتنا آسان ہے حلال کرنا حرام کو؟؟؟۔ چند شرائط کا پابند بھی کیا۔ یار لوگوں نے پابندی اٹھنے کا کیا خیر مقدم! حکومت مخالف اسلامی جماعتوں نے کہاغلط قدم! قدم غلط تھا کہ نہیں مگر یار لوگوں نے اسے ڈگمگا دیا! ڈگمگاتا قدم کب تک ٹھیک جگہ پر پڑ سکتا ہے۔۔۔ پڑ گیا غلط جگہ پر! پندرہ دنوں کے لئے ملنے والی پتنگ بازی کی شہ پر بارہ افراد کی شہ رگ کٹی اور وہ جان ہار گئے! ان میں ایک چار سالہ بچہ اور تین سال کی بچی بھی شامل ہے، زخمیوں کی تعداد درجنوں میں ہے!!! غلطی کس کی؟ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پابندی واپس لگا دی! دو دن باقی تھے بسنت (بس انت بھی کہہ لیں) میں! اس سے پہلے ہی اتنی انت مچ چکی تھی کہ بس میں نہیں رہی تھی! اب دیکھے کون اس کا پابند ہوتا ہے؟ اور آیا پابند نہ ہونے والا بند ہوتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ یہ تو اب کوئی لاہوری ہی بتا سکتا ہے کہ پابندی کی کس قدر پابندی کی گئی؟؟؟؟ لاہور والے زندہ دل کہتے ہیں خود کو۔۔۔۔ زندہ دلی کا تعلق قانون سے کتنا ہے یہ تو مجھے معلوم نہیں! نہ یہ کہ دلی یا دل سے کتنا! مگر زندہ سے بہت ہے! اب دیکھو! بسنت بناء پتنگ ہوتی ہے یا بس انت ہو جاتی ہے ، میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہو کہ اول پابندی ہٹنی نہیں چاہئے تھی اگر ہٹ ہی گئی تھی تو لوگوں کو کیمیکل ڈور کا استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا! یہ کہ اب کئی لاہوریوں نے پتنگ بازی کا سامان خرید و تیار کیا ہے اور اس پر یہ پابندی! وہ کہاں جائیں!!! دوسری طرف جان لیوا حادثات کے بعد پنجاب حکومت کے فیصلے کو غلط کہنا بھی مشکل ہے!!!