ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 02/26/06

سزا، مانگ اور توقع عبث

اندھیرے میں کچھ دیر کھڑے رہے توآنکھ دیکھنے کی صلاحیت حاصل کر لیتی ہے، مگر آگر روشنی میں ہو کر بھی آنکھ بند کر لی جائے تو کچھ بھی نظر آنا نا ممکن ہے۔ دل کی تسلی کے لئے تراشے گئے بہانے و دلائل دراصل آنکھ بند کرنے کے ہی مترادف ہے، آنکھ بند کرنے کا عمل!!! جس میں ہم سب مبتلا ہیں!!!!! موجودہ حالات کا تجزیہ کر کے دیکھ لیں!!! یقین آ جائے گا!!!
خاکہ نویسی !!!! وہ بھی رسول اللہ کی!!! اسلام میں ویسے بھی تصویر کشی کی اجازت نہیں ہے!!!! اوپر سے رسول اللہ کی؟؟؟ اگر اس کی اجازت ہوتی تو شائد اہل مسلم رسول کی اس تصویر کے پجاری ہوتے۔۔۔ جو ان کے تصور سے ہی اس قدر عقیدت رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اوپر سے ایسے خاکہ جن کا مقصد (نعوذ بااللہ) مزاح کا عنصر پیدا کرنا ہے!!! تمسخر اڑانا!!!! “اے ایمان والو! جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہے وہ جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور کافر اِن میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو“ (سورہ المائدہ آیت ٥٦)
توہین رسالت ہوئی! سب کو علم ہے، ردعمل کیا ہے!!! احتجاج۔۔۔۔ کیوں کیا بس احتجاج ہی ہو
سکتا ہے؟؟ اب احتجاج بھی ایسا جو اسلام کی روح کے خلاف، جلوس میں پتلے جلائے جاتے ہیں!! اسلام میں پتلا بننے کی اجازت ہے؟؟؟ توڑ پھوڑ کی جاتی ہے!!!! پوچھا کیوں ؟؟؟ کہنے لگے کہ غم جب غصہ میں بدل جائے تو انسان مشتعل ہو جاتا ہے!! اور ایسے میں اہل مسلم کا غم غصہ کی شکل اختیار کر گیا ہے!! کہ اس کے ایمان پر حملہ ہوا ہے!!! اللہ سے محبت اور اس کے رسول سے محبت ایمان کا حصہ ہے!!! اچھا!!! توڑ پھوڑ کرنے والے مسلمان ہے تو جن کا نقصان ہو وہ کون؟؟؟ وہ بھی مسلمان!!! روکئے اگر وہ بھی مسلمان تو “مسلمان وہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے“ اب بتاؤ ایسے احتجاج کا فائدہ !!! کہ پھر ایمان خطرے میں!!!
کسی نے کہا مکالمہ کرنا چاہئے اہل مغرب سے۔۔۔ کس بات پر؟؟؟ کوئی علمی بحث شروع کی ہے انہوں نے؟؟؟ کوئی تحقیقی کتاب لکھئ ہوتی جس میں کوئی اعتراز ہوتا تو کرتے مکالمہ۔۔۔ دیتے جواب!!! پہلے بھی تو اعترازات کا جواب دیا ہے !!
کسی کی رائے ہے رسول کی شخصیت کے بارے میں اہل مغرب کو آگاہ کیا جائے۔۔۔۔ وہ اچھی طرح آگاہی رکھتے ہیں۔۔۔ ہر زبان میں رسول کی شخصیت کے بارے میں کتب موجود ہیں۔۔۔ پھر یہ اعتراز یا شرارت ان لوگوں کی طرف سے کی جاتی ہے جن کا مقصد ہی تنگ کرنا ہوتا ہے۔ توہین رسالت کے سلسلے میں معافی کا مطالبہ ہو رہا ہے!!! جس نے توہین کی وہ معافی مانگ لے! کہا جا رہا ہے رسول نے بھی اپنی توہین کرنے والوں کو معاف کردیا تھا!!! بڑھیا کا راستے میں کچرا ڈالنے، اہل طائف کی سنگ باری کرنے اور اہل مکہ کی دی جانے والی اذیتوں کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔۔۔۔ یہ اسلام کے ابتدائی دور کے واقعات ہیں !!!! بعد کے ادوار میں کیا ہوا!!! بخاری شریف جلد دوئم میں کعب ابن اشرف کا واقعہ!!! یہودی سردار رسول اللہ کو (نعوذ باللہ) برا بھلا کہتا رہتا تھا، ایک صحابی نے اجازت طلب کی کہ اسے قتل کرنے کی، نہ صرف اجازت بلکہ دعا بھی دی، وہ صحابی تلاش کرنے نکلے، کعب ابن اشرف سردار تھا، جس قلعہ میں مقیم تھا صحابی اس قلعہ کے پاس چھپ گئے اور شام ڈھلتے ہی ڑیور کے ساتھ چھپ کر قلعہ میں ڈاخل ہو گئے، رات یہودی سردار کعب کی خوب گاہ میں داخل ہو کے اس جہنمی کو قتل کیا، اور باہر بھاگے سیڑھیاں اترتے ہوئے پاؤں پھسلا اور ٹانگ ٹوٹ گئی حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے بنی رحمت نے ٹانگ پر دست مبارک رکھا،نہ صرف درد ختم ہوا بلکہ ٹانگ پھر جڑ گئی۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ ایک شاعر حطب توہین رسالت کا مرتکب تھا، فتح مکہ کے موقع پر جب جب آپ نے سب کو معاف کردیا تو صحابہ نے حطب کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا وہ لعین واجب قتل ہے، بتایا گیا کہ وہ تو غلاف کعبہ سے لپٹ کر رو رہا ہے۔۔۔ آپ کا ارشاد تھا کہ حرم کی حدود اسے پناہ نہیں دے سکتی، چنانچہ قتل ہوا۔۔۔۔۔ ہم ہیں کہ معافی کی بات کر رہے ہیں ان کے لئے۔۔۔۔
“ازادی صحافت“ کے ساتھ ساتھ ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہم تو اپنے پیغمبر کے بارے میں بھی یہ حرکت (توہین) کرتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔ اب کوئی آپ سے کئے کہ “میں تو اپنے باپ کی بھی توہین کرتا ہو تو تیری کیسے مننہ کرو؟“ تو کیا اس پر آپ اسے کیا کہے گے کہ بھائی ٹھیک ہے آپ میری بھی اور میرے باپ کی کی بھی توہین کر لو؟؟؟؟؟
اب دیکھے “او ائی سی“ کیا کرتی ہے ؟؟ Oh I See کے علاوہ بھی کچھ کرے گی کہ نہیں۔۔۔۔۔ یا بس “ او آئی سی تے فیر ٹور گئی سی“ والا معاملہ ہو گا؟؟؟؟ عجیب بات ہے!!! سزا کچھ ہے اور ہماری مانگ کچھ ؟؟؟ توہین رسالت کی!!!! ان سے اور کیا توقع رکھی جائے؟؟؟