ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 02/12/06

توہین کا عالمی بحران

ہمارے چند دوستوں کی رائے ہے کہ کچھ بھی ہو جائے ایک بات تو ہے کہ اگر پاکستانی قوم کو دیکھو تو ان میں لاکھ اختلاف ہو بعض معاملات میں یہ ایک ہیں!! دوسرا یہ کہ مسلمان لاکھ گمراہ ہوں ! دین سے دور ہو مگر اپنے دین کے خلاف بات سن کر ایک ہو جاتے ہیں!!!! اب مجھے معلوم ہے کہ آپ میں سے اکثریت کی رائے اس سلسلے میں ان سے ملتی ہے!!!! مگر کیا کرے مجھے اختلاف ہے اس پر بھی!!!!! یہ مکمل سچ نہیں کہ ہم کسی ایک معاملہ میں بھی مکمل اتفاق کرتے ہوں، ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اکثریت ایک جانب ہوتی ہے!!! میری یہ سوچ اب مزید پختہ ہو گئی ہے! توہین رسالت کے واقعہ کے بعد خاص کر!!! انٹرنیٹ پر مختلف انگریزی بلاگ پڑھے!!! خاکوں کے شائع کئے جانیں والی بات پر اگر طرف چند غیر مسلم بلاگر اس عمل کو غلط اور غیر اخلاقی کہا ہے (جب کہ اسے آزادی رائے قرار دینے والے غیر مسلم کی تعداد بہت بڑی ہے ) تو دوسری طرف مسلم بلاگر کی ایک محضوص تعداد اسے توہین رسالت نہیں سمجھتی!!! اور چند بلاگر اگر اسے توہین رسالت مانتے بھی ہیں تو اس پر رد عمل ظاہر کرنے کو درست عمل قرار نہیں دیتے!!! جو ردعمل ظاہر کرنے کا مشورہ دینے ہیں وہ یورپی یا ڈنمارک کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کو بیوقوفی قرار دینے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک اخبار کی سزا پوری قوم کو کیوں؟ (جبکہ اکثر تبصرے وہاں یہ ہیں کہ اس بائیکاٹ کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ یہ ہے کہ آئیندہ ایسا نہ ہو!!! ایک معاشی دباؤ انہیں ایسا کرنے سے روک سکتا ہے)، اور کچھ پر امن احتجاج (بلکہ مارچ کا لفظ استعمال کیا جائے تو بہتر ہے) کو کافی قرار دینے ہیں۔ یورپی اخبارات کی آزادی رائے اور ان کے رد عمل پر بس یہ حیا ان کو نہیں آتی انہیں غصہ نہیں آتا دوسری جانب ایسے ممسلم بلاگر کی بھی بڑی تعداد ہے جو شدید احتجاج (بلکہ شدید تر) کے حامی ہیں!!!!! (دونوں طرح کے بلاگر آپ خود یہاں اور یہاں تلاش کر لیں مل جائیں گے) ہاں!!! دونوں طرف کے پاس اپنے دلائل ہیں!!! البتہ ذاتی طور پر میں ایسے پر امن احتجاج کا قائل نہیں جو صرف مارچ تک محدود ہو! یہ احتجاج نہیں رونا ہے خود کو کمزوز (ماڑا) ظاہر کرنا!! اور بقول حضرت باہو! ماڑا یا تو رو سکتا ہے یا بھاگ!! کہیں ہم راہ فرار کی تلاش میں تو نہیں؟؟؟؟ پر تشدد احتجاج کو بھی میں جائز قرار نہیں دیتا!!! بلکہ اس پر امن مارچ سے آگے کے اقدامات ہونے بھی لازم ہیں! ایسا کہ جس سے وہ آئیندہ ایسا کرنے سے باز آجائیں!!!! اب اگر وہ پشیمانی کا اظہار کرتے بھی ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ دل سے اس پر پشیمان ہوں!!! اور اسے آزادی رائے سمجھنا بھی غلط ہے!!! اگر ایسا ہوتا تو “جیلینڈ پوسٹن“ اس سے قبل حضرت عیسٰی کا کارٹون چھاپنے سے انکار نہیں کرتا، میں یہ نہیں کہہ رہا (نعوذبااللہ)انہیں ایسا کرنا چاہئے تھا! ہم باحیثیت مسلمان ان پر ایمان رکھتے ہیں اور جس قدر وہ حضرت عیسٰی سے عقیدت رکھتے ہیں ہم بھی اتنی ہی بلکہ شائد ان سے بھی ذیادہ!!! معاشی و سفارتی بائیکاٹ ہی اس وقت درست راستہ ہے!!!! اور یہ پر تشدد بھی نہیں!!! اس کے علاوہ جس سطح پر آپ اپنا احتجاج رکارڈ کروا سکے کروائیں!!!
پچھلي پوسٹ