ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 12/25/05

قائد

فرینک مورس نے جو ایک ممتاز وکیل اور مصنف تھے عدالت کے کمرے میں قائد کے مقدمہ لڑنے کے بارے میں لکھا ہے کہ جب قائد مقدمے میں دلائل دے رہے ہوتے ہیں تو اس وقت انہیں دیکھنے میں لطف آتا ہے۔ بہت کم وکلاء کو مقدمہ لڑنے میں وہ مہارت حاصل ہو گی جیسی قائد کو حاصل تھی۔ ان کا مقدمہ لڑنے کا انداز ایک آرٹ ک حیثیت رکھتا تھا۔ قائد مقدمے کا گوشت چھوڑ کر اس کی جڑ اس کے گودے تک پہنچتے تھے۔ انہیں مقدمہ پیش کرنے میں کوئی خاص محنت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ وہ مقدمہ پیش کرنے اور لڑنے میں استادانہ مہارت رکھتے تھے۔ جب وہ کسی مقدمے میں پیش ہوتے تو ان کی ممتاز شخصیت اور پر کشش انداز کو دیکھنے کیلئے عدالت کا کمرہ چھوٹے بڑے وکلاء سے بھر جاتا تھا۔ سننے والوں پر، چاہے وہ جج ہوں یا وکیل ہوں عجیب سحر طاری ہو جاتا تھا۔ وہ نڈر ترین وکیل تھے اور کوئی بھی انہیں مرعوب نہیں سکتا تھا
بشکریہ۔۔۔ نوائے وقت








ہم بھی خواب رکھتے ہیں

ہم بھی خواب رکھتے ہیں
نیم وار دریچوں میں
ہم بھی خواب رکھتے ہیں
جاگتی نگاہوں میں
ہم بھی چاہتے ہیں کہ
ہم بھی ایک دن آئیں
بس تیری پناہوں میں
دلنشین بانہوں میں
ہم بھی پیار کرتے ہیں
سے بے پناہ جاناں
اور اس محبت کا
اعتراف کرتے ہیں
روز تیرے کوچے کا
ہم طواف کرتے ہیں
ہم تو اس محبت میں
ایسا حال رکھتے ہیں
روز رنج لمحوں کو تم سے دور رکھتے ہیں
اور اپنے سر پر ہم
دکھ کی شال رکھتے ہیں
ہم تو یوں محبت کا
اہتمام کرتے ہیں
کرب زندگانی کو اپنے نام کرتے ہیں
تجھ کو خوش رکھیں گے کیسے
یہ خیال رکھتے ہیں
بس تیری محبت کے
ماہ سال رکھتے ہیں
ہم بھی خواب رکھتے ہیں
ہم بھی خواب رکھتے ہیں