ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 10/21/05

بونوں کا دیس

رفیع الدین احمد 1970ء میں اقوام متحدہ میں ملازم ہوئے اور 29 سال کی خدمات کے بعد 1999ء میں ریٹائر ہو گئے۔زندگی کے ان قیمتی برسوں میں وہ متعدد کلیدی عہدوں پر فائر رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اگر انہیں نیویارک کے پاکستانی مشن میں ایک میز اور ایک کرسی دے دی جائے تو وہ پاکستان کے لئے بلا معاوضہ کام کرنے کو تیار ہیں۔ یہ درخواست اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر احمد کمال کے ذریعے اس دور کے کے سیکرٹری خارجہ شمشاداحمد کے حضور پہنچی ، سیکرٹری خارجہ نے شکریہ کے ساتھ یہ درخواست مسترد کردی۔ چند ہی روز بعد اقوام متحدہ کے انتہائی اہم ادارے “یواین آئی ایف ای ایم“ کے اہڈوائزر اور ولڈٹورازم آرگنائزیشن کے نمائندے بھی منتخب ہو گئے، 2003ء کا اپریل آیا تو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے انہیں رفیع الدین احمد کو عراق کے لئے خصوصی مشیر چن لیا، یہ عہدہ لمحہ موجود میں اقوام متحدہ کی سب سے اہم پوزیشن ہے۔ جناب رفیع الدین احمد کی مثال نے ایک بار پھر ثابت کردیا،ارض پاک کو حقیقا اچھے، قابل اور مخلض لوگوں کی ضرورت نہیں۔ ہماری 55 سالہ تاریخ ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کی گوہ ہے۔1961ء میں ایوب خان نے ملکی قوانین کو شریعت کے قالب میں ڈھالنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت پوری دنیا میں دع بڑے مسلم دانشور تھے، ایک جناب پرفیسر حمیداللہ اور دوسرے ڈاکٹر فضل الرحمن۔ پروفیسر صاحب پیرس میں مقیم تھےاور ڈاکٹر صاحب کینڈا کی میکگل یونیورسٹی سے وابستہ تھے۔ ایوب خان نے دونوں سکالروں کو پاکستان بلانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فریضہ فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال کو سونپا گیا۔ جاوید اقبال دسمبر 1961ء میں کینیڈا اور پیرس گئے، پروفیسر حمیداللہ نے فورا انکار کردیا، پروفیسر صاحب کا کہبا تھا “میں حیدرآباد سے نکلا تو سیدھا پاکستان گیا لیکن پاکستان کی یونیورسٹیوں کے باسیوں نے مجھے وہاں آباد نہیں ہونے دیا جبکہ ڈکٹر فضل الرحمن نے یہ درخواست قبول کرلی۔ ایوب خان نے انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کا سربراہ دیا لیکن مقامی علماء نے ان کے خلاف فتوٰی جاری کرنا شروع کردیئے، وہ دلبرداشتہ ہو کر واپس چلے گئے جہاں انہیں شکاگو یونیورسٹی نے قبول کر لیا اور وہیں انتقال فرما گئے آپ ڈاکٹر عبدالسلام کو لیجئے، ڈاکٹر صاحب نے 1951ء میں گورنمنٹ کالج جوائن کیا، وہ کوئی سنجیدہ کام کرنا چاہتے تھے، انہوں نے انتظامیہ سے درخواست کی“میں سنجیدہ کام کرنا چاہتا ہوں“۔ کالج انتظامیہ نے انہیں فٹبال ٹیم کا کوچ بنادیا۔ انہوں نے کچھ عرصہ بعد دوبارہ درخواست دی تو انہیں ہاسٹل کے وارڈن کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں ، وہ 1954ء میں ملک چھوڑ کر چکے گئے۔ انہیں امپریل کالج لندن نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور تھیورٹیکل فزکس کا سربراہ بنا دیا۔ وہاں سے وہ اٹلی گئے اٹلی کی حکومت نے ٹریسٹ میں ان کے نام سے ایک لیبارٹری بنائی، انہیں 1979ء میں بوبل پرائز ملا، معروف مصور گل جی ان سے ملنے گئے، پاکستان کا ذکر آیا تو ڈاکٹر صاحب کھڑے ہو گئے اور گل جی کو سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ انہیں عمر بھر یہ شکوہ رہا پوری دنیا انہیں ہیرو مانتی ہے لیکن اہل وطن کی نظر میں وہ کافر ہیں۔ بھارت کے موجودہ صدر ڈاکٹر عبدلکلام 1972,73ء میں ہالینڈ سے پاکستان آئے، وہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں نوکری کے خوہاں تھے، کمیشن نے انہیں “نالائق“ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ چھ ماہ پاکستان رہنے کے بعد وہ واپس لوٹ گئے۔ وہ ہالینڈ سے بھارت گئے، بھارت نے انہیں میزائل پروگرام میں نوکری دے دی، انہوں نے بھارت کو نہ صرف ایٹمی طاقت بنادیا بلکہ اسے میزائل ٹیکنالوجی میں بھی عالمی طاقتوں کے برابر کھڑا کیا۔ خود ڈاکٹر عبدالقدیر جب پہلی بار پاکستان آئے تو سوٹ، ٹائی اور بوٹ والے بابوؤں نے انہیں مسترد کردیا تھا۔ یہ تو اچھا ہوا ذوالفقار علی بھٹو انہیں واپس کھینچ لائے، ورنہ آج ہم بھارت کا اک پسماندہ صوبہ بن کر زندگی گزار رہے ہوتے۔ یہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے پوری دینا اپنے ٹیلنٹ کی قدر کرتی ہے، وہاں تو یورپ کے تین سرمایہ دار ملک کارل مارکس کو اپنا شہری قرار دے کر فرضی قبریں بنا لیتے ہیں چارچار سو سال بعد ناسڑاڈیمس کی ہڈیاں نکال واپس فرانس لائی جاتی ہیں، روسوکوڈیگال فرانس قرار دے دیتا ہے لیکن ہمیں دیکھئے ڈاکٹرعبدالسلام، ڈاکٹرفضل الرحٰمن، پروفیسر حمیداللہ، ڈاکٹر عبدلکلام یا پھر رفیع الدین احمد ہمارے پاس ایسے لوگوں کی گنجائش نہیں، ہم لوگ کیا بنتے جا رہے ہیں۔ مجھے طفیل نیازی مرحوم کی بات رہ رہ کر یاد آتی ہے، مرحوم کہا کرتے تھے ہم واہگہ عبور کرتے ہیں تو بھگوان ہوتے ہیں واپس آتے ہیں تو لوگ مہیں کنجر کہتے ہیں۔ آخر ہم ہیں کیا! طفیل نیازی مرحوم کو یہ بات پوری زندگی سمجھ نہ آئی۔ فنکار تھا سمجھ نھی کیسے سکتا تھا ایسی باتیں سمجھنے کے لئے انسان کو بیوپاری ہونا چاہئے اور بیوپار یہ کہتا ہے بونوں کے دیس میں بونے خود کو بلند قامت ثابت کرنے کے لئے ہر لمبے شخض کے پاؤں کاٹ دیتے ہیں۔ ہم اس ملک کو بونوں کا دیس بناتے چلے جا رہے ہیں، اگر ہم نے پاؤں کاٹنے کا یہ سلسلہ بند نہ کیا تو یقین کیجئے عالم چناؤں کا یہ ملک کوڈوؤں کی چھوٹی سی بستی بن کر رہ جائے گا ایسی جس کا آسمان بھی دس فٹ اونچا ہو گا۔
تحریر؛ جاوید چوہدری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اقتباس؛ زیرو پوئنٹ2