ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 09/03/05

یہودی لڑکی سے شادی اور پاک اسرائیل تعلقات

ترکی میں قصوری صاحب نے اپنےاسرائیلی ہم منصب سے ملاقات کی ۔یہ پاکستان و اسرائیل کے درمیان سرکاری سطح پر باضابطہ پہلا رابطہ ہے۔۔۔۔اس سے قبل مکا لات والا معاملہ تھا۔۔۔ملاقات کے بعد عرض کیا کہ ہم ان(اسرائیل) سے ملے ہیں مگر ان کو ایک ملک نہیں مانتے۔۔۔بات کچھ پلے نہیں پڑی۔۔۔کوئی پوچھے سرکار! بندہ اس سے ملتا ہے جس کے وجود کو مانے ہم نہیں کہتے “قانون بین الاقوام“ کہتا ہے۔۔۔۔آپ کیا کہتے ہیں؟ مزید کہا کہ ملاقات سے پہلے فلسطین کے صدر محمود عباس اور سعودی عرب سمیت آٹھ مسلم ممالک کو اعتماد میں لیا۔فلسطینی ذرائع نے تردید کر دی کیسا اعتماد؟مئی میں اسلام آباد میں ملاقات (دونوں ممالک کے صدر کے درمیان) کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہے۔۔۔۔اہل فلسطین نے غزہ میں پاکستان کے اس اقدام کے خلاف مظاہرہ کیا اور “دشمن سے ملاقات نامنظور“ کے نعرے لگائے۔۔۔اپنا جانا تو یہ نعرہ لگایا ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔ “دشمن کا دوست دشمن “ والا نعرہ بھی لگ سکتا تھا۔۔۔ احتیاط لازم ہے ورنہ یہ تعرہ لگ سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کو ملک تسلیم کرنا نہ کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔۔۔اچھا! اب یہ سوچا جا رہا ہے کہ اسے تسلیم کیا جائے یا نہیں؟ (اب تک ستاون میں سے سات ممالک نے اسے تسلیم کیا ہے۔جویہ ہیں، مصر ، اردن ، ترکی ، موریطانیہ، قازقستان، ازبکستان ، اور کرغیزستان)۔۔۔۔اب صدر سے نہ پوچھے وہ تو تقریر کی تیاری کر رہے ہیں ارے وہ ہی جو انہوں نے یہودی لابی سے کرنی ہے۔۔۔باقی بچے اپنے شجاعت تو انہوں نے تو الٹا سوال کر ڈالا “بھائی ان مجلس والوں سے پوچھوں کہ اگر یہودی لڑکی سے شادی ہو سکتی ہے تو یہودیوں سے مذاکرات کیوں نہیں ہو سکتے“ ہون آرام ایں